امراؤ جان ادا

      مکتب میں مجھ سمیت تین لڑکیاں تھیں اور ایک لڑکا تھا،گوہر مرزا حد کا شریر پر، سب لڑکیوں کو چھیڑا کرتا تھا.کسی کی چٹکی لےلی .کسی کی چوٹی پکڑ کر کھینچ لی. کسی کے قلم کی نوک توڑ ڈالی. کسی کی کتاب پر دوات الٹ دی. لڑکیاں بھی اسےخوب مارتی تھیں. اور مولوی صاحب بھی سزا دیتے تھے، مگر وہ اپنی شرارتوں سے نہیں چوکتا تھا. سب سے بڑھ کر میری گت بناتا تھا. مولوی صاحب نے اس کو بہت مار ا مگر اس نے مجھے ستانا نہ چھوڑا. اسی طرح کئی برس گزر گئے. آخر ہماری صلح ہو گئی یا یوں کہیے کہ میں اس کے ستانے کی عادی ہو گئی.
     گوہر مرزا کی اور میری عمر میں زیادہ فرق نہیں تھا. شاید وہ مجھ سے ایک دو سال بڑا تھا. جس زمانے کا حال بتا رہی ہوں، میری عمر کوئی تیرہ برس ہو گی اور گوہر مرزا کا چودھواں پندھرواں سال تھا.
     گوہر مرزا کے ستانے میں مجھ کو مزا آنے لگا. اس کی آواز بہت اچھی تھی. ڈومنی کا لڑکا تھا. ادھر میں بھی لے سر جانتی تھی. جب مولوی صاحب مکتب میں نہ ہوتے تھے، خوب جلسے ہوتے تھے. کبھی میں گانے لگتی، کبھی وہ گاتا. گوہر مرزا کی آواز پر اور رنڈیاں بھی فریفتہ تھیں. ہر ایک کمرے میں بلایا جاتا تھا. اس کے ساتھ میرا جانا بھی ایک ضروری بات تھی، کیوں کہ ہم دونوں کی سنگت کے بغیر لطف نہیں آتا تھا.
     اس طرح میری زندگی کے کئی برس خانم کے مکان پر گزرے. اس درمیان میں کوئی واقعہ ایسا نہیں گزرا ، جس کا بیان ضروری ہو. ہاں خوب یاد آیا. بسم اللہ کی مسی بڑی دھوم سے ہوئی. بارہ دری اس جلسے کے لئے سجائی گئی. شہر کی رنڈیاں سب تھیں اور دور دور سے بھی طوائفیں بلوائی گئی تھیں. بڑے بڑے گوئیے دہلی سے آئے تھے. سات دن گانے بجانے کی صحبت رہی.
     بسم اللہ خانم کی اکلوتی لڑکی تھی ، خوب انتظام کیا گیا. نواب چھبن صاحب نے ماں باپ سے بہت دولت پائی تھی. خانم نے خدا جانے کیا چال چلی، بےچارے پھنس ہی گئے. نواب صاحب کے پچیس تیس ہزار روپے اس جلسے میں خرچہوئے. اس کے بعد بسم اللہ نواب صاحب کی ملازم ہو گئیں.
     مرزا رسوا صاحب ! جو باتیں آپ مجھ سے پوچھتے ہیں ، ان کا میری زبان سے نکلنا سخت مشکل ہے. یہ سچ ہے کہ رنڈیاں بہت بے باک ہوتی ہیں ، لیکن رنڈیاں بھی عورت ذات ہیں. ان باتوں کو پوچھنے سے آپ کو کیا فائدہ؟
رسوا: کچھ تو فائدہ ہے جو میں اسرار کر کے پوچھتا ہوں. آپ پڑھی لکھی ہیں. پڑھے لکھوں کو ایسی شرم نہیں چاہیے.
امراؤ: اوئی :تو کیا پڑھنے سے انسان بے شرم ہو جاتا ہے. یہ آپ نے خوب کہی.
رسوا: اچھا، اچھا تو کہیے. فضول باتوں میں وقت ضائع نہ کیجیے.
امراؤ: کہیں کسی اخبار میں نہ چھپوا دیجیئے گا !
رسوا: اور آپ کیا سمجھتی ہیں؟
امراؤ: توبہ کیجیے. مجھے بھی آپ اپنی طرح رسوا کریں گے.
رسوا: خیر اگر آپ میرے ساتھ رسوا ہوں گی تو کوئی ہرج نہیں.
امراؤ: کیا زبردستی ہے. کیا بے شرمی کی باتیں آپ پوچھتے ہیں. اچھا لیجیے سنیے: جب سے بسم اللہ کی مسی ہوئی ، خورشید جان اور امیرن جان کی رسمیں ہوئیں ، میرے دل میں ایک خاص قسم کی امنگ پیدا ہوئی. میں نے دیکھا کہ ایک خاص رسم (جس سے میں با لکل ناواقف تھی) کے بعد
بسم للہ سے بسم اللہ جان ہو گئیں. بے باکی کی سند مل گئی. اب یہ لوگ مجھ سے علاحدہ ہو گئے. وہ مردوں کے ساتھ بے تکلف ہنسی مذاق کرنے لگی تھیں. ان کے کمرے جدا جدا سجا دئے گئے تھے. نواڑ کے پلنگ، بڑے بڑے پان دان ، شام سے دو کنول روشن ہو جاتے ہیں. خدمت گار ہاتھ باندھے کھڑے ہیں. نوجوان رئیس زادے ہر وقت دل بہلانے کو حاضر ہیں. سامنے پان دان کھلا ہے. ایک ایک کو پان لگا کر دیتی جاتی ہیں. اٹھتی ہیں تو لوگ، بسم اللہ، کہتے ہیں. چلتی ہیں تو لوگ آنکھیں بچھاتے ہیں. یہ کسی کی پروا نہیں کرتیں. کوئی دل ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے، کوئی جان قربان کر رہا ہے. ادھر اس کو رلا دیا ، ادھر اس کو ہنسا دیا. بات بات میں روٹھی جاتی ہیں. لوگ منا رہے ہیں.
     یہ دیکھ کر میرے دل میں جو گزرتی تھی ، اس کو میں خوب جانتی ہوں. عورت کو عورت سے رشک ہوتا ہے. سچ تو یہ ہے اگرچہ مجھے کہتے ہوئے شرم آتی ہے، میرا دل چاہتا تھا، سب کے چاہنے والے مجھی کو چاہیں. مگر میری طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا تھا. بوا حسینی کی چھوٹی سی کوٹھری میں ہم اور بوا حسینی رات کو پڑ رہتے تھے. ایک طرف کوٹھری میں چولہا بنا ہوا تھا. اس کے پاس دو گھڑے پڑے ہوئے تھے. یہیں ادھر ادھر برتن پڑے رہتے تھے. ایک کونے میں آٹے کی مٹکی تھی. اس پر دو تین دالیں، نمک-، مسالا وغیرہ تھا. اسی کے پاس جلانے کی لکڑیاں. خلاصہ یہ کہ سب کچھ یہیں تھا. چولہے کے اوپر دو کیلیں لگی ہوئی تھیں. کھانا پکاتے وقت ان پر چراغ رکھ دیا جاتا تھا. اس کوٹھری میں دو چھینکے بھی تھے. ان میں سے ایک میں پیاز رہتی تھی اور دوسرے میں سالن کی پتیلی. اسی میں چپاتیاں ڈھانپ کر رکھ دی جاتی تھیں. صبح سے گیارہ بجے تک مولوی صاحب کی مار اور شام کو استاد کی جھڑکیاں یہ ہماری زندگی تھی. مگر میں اپنی کرتوتوں سے باز نہیں آتی تھی.
     اول اول تو مجھے آئینہ دیکھنے کا شوق ہوا. اب میری عمر چودہ برس کی تھی. ادھر بوا حسینی کوٹھری سے نکلیں، ادھر میں نے آینہ نکالا. اپنی صورت دیکھنے لگی. اپنا ناک نقشہ اور رنڈیوں سے ملا تی تھی. مجھے اپنے چہرے میں کوئی چیز بری معلوم نہ ہوتی تھی، بلکہ اوروں سے اپنے کو بہتر سمجھتی تھی. اگرچہ در اصل ایسا نہ تھا.
رسوا: تو کیا آپ کی صورت کسی سے بری تھی. اب بھی سینکڑوں سے اچھی ہے.اس وقت تو وہ بھی جوبن ہوگا.
امراؤ: خیر اب اس تعریف کو رہنے دیجیے. اس وقت دل ہی دل میں کہتی تھی کہ ہائے مجھ میں کیا برائی ہے کہ میری طرف کوئی توجہ نہیں کرتا.
رسوا: یہ تو ممکن نہیں کہ کسی کو آپ کی طرف توجہ نہ ہو. مگر آپ کی مسسی نہیں ہوئی تھی. خانم سے لوگ ڈرتے تھے، اس لئے آپ سے کوئی بولتا نہ ہوگا.
امراؤ: شاید یہی ہو. مگر مجھے اتنی عقل کہاں تھی. میں دوسروں کو دیکھ کر جلتی تھی، راتوں کی نیند اڑ گئی تھی.

     اسی زمانے میں کنگھی کرتے وقت اور بھی صدمہ ہوتا تھا. اس لئے کہ کوئی چوٹی گوندھنے والا نہ تھا. جب بسم اللہ کی چوٹی نواب چھبن صاحب اپنے ہاتھ سے گوندھتے تھے تو میرے سینے پر سانپ لوٹ جاتا تھا. یہاں کون تھا ، وہی بوا حسینی. وہ بھی جب انہیں فرصت ہوئی، نہیں تو سارا دن بال کھلے ہیں. آخر میں نے اپنے ہاتھ سے چوٹی گوندھنا سیکھا. دوسری رنڈیاں تو دن میں تین تین جوڑے بدلتی تھیں، یہاں سارا ہفتہ وہی پوشاک. اس پر بھی میرا جی چاہتا تھا کہ مردوں میں جا کر بیٹھوں. کبھی بسم اللہ کے کمرے میں چلی گئی ، کبھی امیرن جان کے پاس. مگر جہاں جاتی تھی کسی نہ کسی بہانے سے اٹھا دی جاتی تھی. سب کو اپنے مزے کا خیال تھا. مجھے کون بیٹھنے دیتا تھا. ان دنوں میں ہر طرح مردوں سے لگاوٹ کرتی تھی اس وجہ سے لوگ مجھے بیٹھنے نہ دیتے تھے.
مرزا صاحب:آپ سمجھ سکتے ہیں کہ گوہر مرزا ایسے وقت اور اس حالت میں مجھے کس قدر غنیمت معلوم ہوتا تھا. وہ مجھ سے پیار کی باتیں کرتا تھا. میں اس کو چھیڑتی تھی وہ مجھے چھیڑتا تھا. میں اس کو اپنا چاہنے والا سمجھتی تھی اور وہ بھی ان دنوں مجھ کو چاہتا تھا. جب صبح مکتب میں آتا، دو سنگترے جیب میں پڑے ہوتے. مجھے چپکے سے دے دیتا. ایک دن نہ معلوم کہاں سے ایک روپیہ لے آیا. وہ بھی مجھے دے دیا. ہزاروں روپے اپنی زندگی میں میں نے اپنے ہاتھ سے اٹھائے ہونگے ، مگر اس ایک روپے کے پانے کی خوشی کبھی نہ بھولوں گی. اس سے پہلے مجھے پیسے تو بہت ملے تھے، مگر روپیہ کبھی نہیں ملا تھا. وہ روپیہ میں نے بہت دن تک اپنے پاس رکھا. مجھے اس کے خرچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی. یہ بھی خیال تھا کہ خرچ کرتی ہوں، تو لوگ پوچھیں گے کہاں سے ملا،تو کیا بتاؤں گی. رازداری کی سمجھ مجھے بھی آ گئی تھی . بے شک میں سن تمیز کو پہنچ چکی تھی.
     برسات سے دن ہیں. گھٹا آسمان پر چھائی ہوئی ہے. پانی برس رہا ہے. بجلی چمک رہی ہے. بادل گرج رہا ہے. میں بوا حسینی کی کوٹھری میں اکیلی پڑی ہوں. بوا حسینی خانم کے ساتھ حیدری کے گھر گئی ہوئی ہے. چراغ بجھ گیا ہے اور اندھیرا ہے.
     دوسرے کمروں میں جشن ہو رہے ہیں. کہیں سے گانے کی آواز آرہی ہے. کہیں قہقہے بلند ہو رہے ہیں. لیکن میں اس اندھیری کوٹھری میں اپنی تنہائی پر رو رہی ہوں. کوئی آس پاس نہیں ہے. جب بجلی چمکتی ہے. دلائی سے منہ ڈھانپ لیتی ہوں. جب گرج کی آواز آتی ہے. کانوں میں انگلیاں دے لیتی ہوں. اسی حالت میں نیند آ گئی. اتنے میں یہ معلوم ہوا کہ کسی نے زور سے میرا ہاتھ پکڑ لیا . میری گھگھی بندھ گئی. منہہ سے آواز تک نہ نکلی. آخر کار میں بے ہوش ہو گئی.
صبح چور کو ڈھونڈا گیا. وہ کہاں ملتا ہے. خانم منہہ تھوتھاے بیٹھی ہیں. بوا حسینی بڑبڑاتی پھرتی ہیں.میں چپ بیٹھی ہوں. سب پوچھ پوچھ کر تھک گئے مگر مجھے کچھ معلوم ہو تو بتاؤں.
رسوا: یہ نہیں کہتیں کہ اگر معلوم بھی ہوتا تو کیوں بتاتی.
امراؤ: خیر اب باتیں نہ بنایئے، سنتے جایئے.
     خانم کی اس دن کی مایوسی اور بوا حسینی کا اداس چہرہ جب مجھے یاد آتا ہے تو بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے.
رسوا: کیوں نہ آئے. ان کی امیدیں خاک میں مل گئیں اور آپ کا مذاق ہو گیا.
امراؤ: امیدیں خاک میں مل گئیں ! خانم کو آپ نہیں جانتے. اس معاملے کو اس طرح دبا دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا.
اب کسی آنکھ کے اندھے گانٹھ کے پورے کی تلاش ہوئی. آخر ایک بے وقوف پھنس ہی گیا. ان کا نام راشد علی تھا. ان دنوں پڑھنے کے لئے لکھنو آئے ہوئے تھے. ان کے والد رشوت کے روپے سے بڑی دولت چھوڑ گئے تھے. روپیہ وطن سے آ رہا تھا. وہ جو لکھ بھیجھتے تھے، ان کی ماں بے چاری بھیج دیتی تھیں، اس خیال سے کہ لڑکا پڑھنے گیا ہے، مولوی بن کے آئے گا. عیش پسند مفت خورے آپ کے ساتھ رہتے تھے. انہیں لوگوں کے کہنے سننے سے کچھ شوق پیدا ہوا. ادھر خانم کا یہ کہنا : نا صاحب ! ابھی وہ کم سن ہے، ادھر ان کی التجا اور بے قراری آج تک مجھے یاد ہے. آخر پانچ ہزار روپے پر فیصلہ ہوا . روپیہ لینے کے لئے انہیں وطن جانا پڑا. ماں سے چھپا کے دو گاؤں آپ نے رہن کر دیئے. بیس پچیس ہزار روپے لے کر لکھنو آگئے. پاچ ہزار خانم کو گن دیئے.
     خلاصہ یہ کہ میں راشد علی کے سر منڈھ دی گئی. چھ مہینے وہ لکھنو میں رہے، سو روپیہ ماہوار دیتے رہے.
     اب میں گویا آزاد ہو گئی. دو خدمتگار میرے لیے خاص ملازم ہو ئے.پھاٹک کے پاس والا کمرہ میرے لیے سجا دیا گیا. دو چار آدمی، شریف زادے نواب زادے میرے پاس بھی آ کر بیٹھنے لگے.گلچین اول گوہر مرزا ہر زمانے میں مجھ سے برابر ملتا رہا. بوا حسینی اور خانم اس کی صورت سے جلتی تھیں. مجھے محبّت تھی اس لیے کوئی روک نہیں سکتا تھا.
(مرزا محمد ہا دی رسوا)