سر سید احمد خان

     انیسویں صدی کی دلّی میں ایک پڑھا لکھا کھاتا پیتا خاندان بستا تھا. اسی گھر میں ١٧ اکتوبر١٨١٧ کو ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام سیّد احمد رکھا گیا. بڑا ہو کر یہی لڑکا ہندوستان کی تاریخ میں سر سیّد کے نام سے مشہور ہوا اور بہت سے لوگ بھول گئے کہ ماں باپ نے اس کا نام سیّد احمد رکھا تھا. اس زمانے کے شریف مسلمان گھروں میں بچوں کو فارسی عربی پڑھائی جاتی تھی. سر سید نے بھی وہی پڑھی. جب وہ بیس سال کے تھے تو باپ کا سایا سر سے اٹھ گیا، اور انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک دفتر میں نوکری کر لی. وہ بچپن ہی سے بڑے سمجھدار اور محنتی تھے، جلد جلد ترقی کر کے جج ہو گئے. اپنے سرکاری کام سے وقت بچا کر پڑھتے لکھتے بھی رہتے تھے، اس لئے ان کی بڑی عزت تھی.
     ١٨٥٧میں جب سر سیّد کی عمر چالیس سال کی تھی، ہندوستانیوں نے آزادی حاصل کرنے کے لئے انگریزوں کے خلاف بغاوت کر دی. ہر طرف مار کاٹ ہونے لگی. سر سیّد نے بہت سے انگریزوں کی جان بچائی اور اس بات کی کوشش کی کہ انگریزوں اور ہندوستانیوں کے تعلقات دوستانہ ہو جائیں. اس سلسلے میں انہوں نے بہت کام کئے. ان کا خیال تھا کہ دونوں قوموں میں دوستی اسی وقت ہو سکتی ہے، جب ہندوستانی انگریزی زبان، رہن سہن، خیالات اور علوم سے واقف ہوں. اس کے لئے انہوں نے اسکول کھولے اور ایک ساینٹفک سوسائٹی قائم کی، جس کا کام یہ تھا کہ انگریزی کی کتابوں کا ترجمہ کیا جائے اور اردو جاننے والے سائنس اور دوسرے نئے علوم سے واقف ہوں. اس سوسائٹی کا ایک اخبار بھی نکلتا تھا. اس دوران میں سر سید مرادآباد غازی پور، علی گڑھ اور بنارس میں رہے اور سماجی کام کرتے رہے.
     ١٨٦٨میں سر سید انگلستان گئے. ان کے دو لڑکے سید احمد اور سید محمود بھی ساتھ تھے. وہ انگلستان اپنے لڑکوں کی تعلیم کا انتظام کرنے گئے تھے مگر مطلب تھا وہاں کی تعلیم اور رہن سہن کو دیکھنا، اچھی کتابیں لانا اور وہاں کی زندگی کو سمجھنا. سر سید وہاں سے بہت کچھ دیکھہ اور سمجھہ کر واپس آئے. سب سے پہلے انہوں نے اپنے نیے خیالوں کو ظاہر کرنے اور پھیلانے کے لئے ایک رسالہ نکالا، جس کا نام تہذیب الا اخلاق تھا. اس سے لوگوں کے خیالات ہی نہیں بدلے، اردو نثر کی بھی ترقی ہوئی. کچھ دنوں بعد انہوں نے علی گڑھ میں وہ کالج کھولا جو آج علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی شکل میں موجود ہے اور ان کی بڑی یادگار ہے.
     اب سر سید بہت مشہور ہو چکے تھے. انھیں وائسرائے کی کونسل کا ممبر بھی بنا دیا گیا تھا اور سر کا خطاب بھی انگریزی سرکار کی طرف سے ملا تھا. اب انھیں ہر شخص سر سید ہی کہتا تھا. ٢٧ مارچ ١٨٩٨ کو ان کا انتقال ہو گیا.
     سر سید ایسے لوگوں میں گنے جاتے ہیں جو دنیا میں کم ہی پیدا ہوتے ہیں. انہوں نے اپنے زمانے کو سمجھا اور اپنے ملک کو وقت کے ساتھ چلانے کی کوشش کی. وہ ایک اچھے رہنما، اچھے ادیب اور اچھے انسان تھے. انہیں کام سے محبّت تھی اس لئے انہوں نے نام بھی پایا .
     لکھنا سرسید نے کم عمری ہی سے شروع کر دیا تھا. کچھ ترجمے کئے، کچھ چھوٹی چھوٹی کتابیں لکھیں، لیکن تیس سال کی عمر میں انہوں نے دہلی کی پرانی عمارتوں اور مشہور لوگوں کے بارے میں اپنی کتاب " آثار الصنادید لکھی تو بہت مشہور ہو گئے. اس کا ترجمہ فرانسیسی میں بھی ہوا اور یورپ میں بھی انہیں شہرت حاصل ہوئی. بجنور میں جو بغاوت ہوئی تھی، سر سید نے اس کی تاریخ بھی لکھی. بغاوت کے بارے میں اسباب بغاوت ہند لکھ کر برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بھیجی. کئی مذہبی کتابیں لکھیں، مگر اردو ادب میں ان کے وہ چھوٹے چھوٹے مضمون زیادہ مشہور ہوئے جو تہذیب الاخلاق میں چھپے تھے. ان کے خیالات کو کچھ مسلمان پسند کرتے تھے کچھ ناپسند. کچھ لوگ انگریزی راج کا خوشامدی سمجھتے تھے، کچھ لوگ ملک کا دوست. مگر سچ یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے ان لوگوں میں تھے جو بعد کی نسلوں پر اپنا گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور جنھیں ملک کے تاریخی لوگوں میں شمار کرنا پڑتا ہے.
     انیسویں صدی کا آخری نصف ہندوستان کی تاریخ میں بڑی تبدیلیوں کا زمانہ تھا. ایک طرف وہ زندگی تھی جو سینکڑوں سال سے ایک ہی حال پر چلی جا رہی تھی اور دوسری طرف مغربی تعلیم، انگریزی ادب، سیاسی خیالات، پریس، ریل اور تار کے اثر سے پیدا ہونے والی نئی زندگی. ان دونوں میں بڑا فرق تھا. عام لوگوں کے لئے یہ بات بڑی مشکل تھی کے وہ ان کی کشمکش کو سمجھیں مگر سر سید انگریزی زبان نہ جانتے ہوئے بھی اس کو اچھی طرح سمجھتے تھے. وہ جانتے تھے کہ باہر سے جو خیالات آ رہے ہیں، ان میں سے کون سے خیالات ملک کی ترقی کے لئے مفید ہیں. اس لئے ان کی رائے تھی کہ چاہے انکی کتنی ہی مخالفت کی جائے ان خیالات کو قبول کر لینا چاہیے. ترقی کی راہ میں جو رکاوٹیں تھیں ، وہ انہیں بھی جانتے تھے. اس طرح اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق وہ نئے اور پرانے، پورب اور پچھچھم کو ملا کر ہندوستانیوں اور خاص کر مسلمانوں کو ایک نئی زندگی کا پیام دینا چاہتے تھے.
     تبدیلی کا یہ پیام ایسا تھا کہ جو لوگ اس کو نہیں سمجھ سکتے تھے وہ سر سید کو مذہب اور قوم کا دشمن سمجھنے لگے. لیکن زمانہ جس تیزی سے بدل رہا تھا ،اسے دیکھتے ہوئےان کے خیالات کو غلط نہیں کہا جا سکتا. وہ سماج میں، طریقہ تعلیم میں، اور شعر و ادب میں، ہر چیز میں تبدیلی چاہتے تھے. یہی پرانے بندھنوں کو توڑ کر آگے بڑھنے کا راستہ تھا.
      ادبی نقطہ نظر سے بھی سر سید کے کاموں کی خاص اہمیت ہے. انہوں نے رنگین اور بناوٹی ادبی زبان کے مقابلے میںسیدھی سادھی نثر کی طرف توجہ کی اور ان کے اثر سے اس زمانے کے کئی اور لکھنے والوں نے بھی ویسی ہی نثر لکھی. اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تحریر میں سادگی اور مطلب پر زور دیا جانے لگا. سر سید کی تحریروں میں رنگینی اور سجاوٹ تو نہیں ہے مگر زور اور سچائی بہت ہے.
     اس زمانے کے مشہور ادیبوں میں خواجہ الطاف حسین حالی، ڈاکٹر نظیر احمد، ذکاؤالله، محسن الملک ، چراغ علی، مولانا شبلی اور کچھ دوسرے لکھنے والے سر سید سے متاثر ہوئے. ان میں سے کئی ایسے تھے جن کے مضامین سر سید کے رسالے تہذیب الاخلاق ہی میں چھپتے تھے. دل چسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ سر سید کے مخالف تھے، وہ بھی انہیں جیسی زبان استعمال کرنے پر مجبور ہوتے تھے. اس طرح اردو نثر میں وہ نیا رنگ پیدا ہو گیا جو آج تک اس کے اوپر چھایا ہوا ہے.
     مختصر یہ کہ ہندوستان کو نئے دور میں داخل کرنے میں سر سید کا بڑا ہاتھ ہے اور ان کے کارناموں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا.
( سید ا َحتَشام حسین )