سر سید اور اردو صحافت
ہندوستان میں اخبار نویسی اور خبررسانی کی تاریخ بہت قدیم ہے -
ہندوستان میں اردو صحافت کی با قاعدہ ابتدا مئی 1822 میں "جا م جہاں نما" ہفتہ وار اخبار سے ہوئی-اردو صحافت، اخبار یا خبرنامہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جاۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسری ایجادوں کی طرح ہی اس کی تاریخ بہت ہنگامہ خیز رہی ہے انیسویں صدی میں ملک گیر پیمانے پر آزادی اور قومی اتحاد کے لئے جدوجہدکاسہرا اردو صحافت ہی کے سر ہے-اردو کے اخبارات ہی نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا - اس کا ثبوت ایک نامور صحافی اور مدیر مولوی محمد باقر کی شہادت سے ملتا ہے- اردو اخبارات کے مدیران انگریزوں کے ظلم وستم کانشانہ بنے - پریسوں پر چھاپہ مارکر تالے ڈال دیئے گئے- ان سب اذیتوں کے باوجود وہ انگریزوں کے ظلم و ستم کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے- اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ دوسری زبانوں میں اخبار بہت کم تھے اور انگریزی اخبار انگریزوں کے حامی اور ہم نوا ہوا کرتے تھے-لہذا اردو اخبارات اور اردو صحافیوں ہی نےبرطانوی سامراج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا-انہوں نے سیاسی بیداری اور تحریک آزادی میں سب سے نمایاں رول ادا کیا-
1866 سے اردو صحافت کے ایک نئے دور کاآغاز سر سیّد احمد خاں کے اخبار سا ئینٹفک سو سائٹی سے ہوا- اس اخبار کا اختصاص دو لسانی تھا-اس اخبارکے توسط سے سر سیّد احمد خاں انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان جو شکوک اور تعصبات جگہ پا گئے تھے اسے دور کرنا چاہتے تھے-تا کہ افہام و تفہیم کی راہ ہموار ہو اور ترسیلی خلا دور ہو سکے-
اصغر عبّاس صاحب لکھتے ہیں:
"اس اخبار کے دو کالم رکھے گئے- ایک انگریزی میں، دوسرا اردو میں ہوتا تھا- اس کا مقصد بھی یہی ہوتا تھا کہ اس کے ذریعے ہندستانی اور انگریز ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھیں اور باہم ارتباط پیدا ہو-"
سر سیّد اپنے دو لسانی اخبار کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوۓ خود اپنے ایک اداریئے میں لکھتے ہیں:
"جو تعصبات کہ آپس کی محبت اور ارتباط کے مخل ہوتے ہیں ان کو دور کرے اور ان کے دلوں میں ایسا عمدہ اثر پیدا کرے کہ وہ تمام قوم جسمانی بلکہ روحانی بھلائی وبہبودی کے بڑے بڑے کاموں میں اپنے آپ کو بھائی بھائی سمجھیں -"
سر سیّد احمد خاں لندن گئے تو سا ئینٹفک سو سائٹی کے سیکرٹری راجہ جے کشن داس بنا دیے گئے - تنبیہہ کے طور پر ایک مکتوب میں سر سیّد احمد خاں ان کو لکھتے ہیں:
"اپنی سو سائٹی اور اخبار کی آزادی کو ہر گز ہاتھ سے جانے مت دینا"
بعد میں برطانیہ سے واپس آنے پر سر سیّد نے ایک خالص علمی جریدہ "تہذیب الاخلاق" جاری کیا- انیسویں صدی کا نصف آخر اردو زبان کی تاریخ کا وہ روشن زمانہ ہے جب اس پر انگریزی زبان و ادب کے اثرات مرتب ہوئے- اسی زمانے کو اردو صحافت کا دورجدید بھی کہا جاتا ہے، سر سیّد احمد خاں، ان کے رفقاء اور معاصرین نے اس عہد میں اردو زبان کے ہمہ جہت ارتقاء کے لیے راہ ہموار کی اور اس کے نشونما میں بھر پور حصّہ لیا- انہیں دنوں دہلی میں اردو کے متعدد اخبار نکالے گئے- انیسویں صدی کے اختتام تک کا زمانہ اردو میں صحافت کے فروغ اور ترقی کا زمانہ ہے- اس زمانے تک جہاں اردو زبان میں خود ان گنت اصطلاحات اور تراکیب، الفاظ نے جنم لیا وہیں غیرملکی زبانوں کے بھی ہزاروں الفاظ ابلاغ کی ضرورتوں کے تحت ہماری زبان میں آگئے تھے-خواجہ احمد فاروقی نے دہلی اردو اخبار کے چند ابتدائی پرچوں کا جائزہ لے کر انگریزی کے متعدد الفاظ جمع کئے ہیں، جو انیسویں صدی کے وسط تک اردو زبان میں بےتکلف استعمال کیے جاتے تھے- الفاظ جیسے پولیس، اسٹامپ، مجسٹریٹ، لیفٹیننٹ وغیرہ وغیرہ- زبان اپنے تعمیری عہد میں دروازے کھلی رکھتی ہے اور وہ عصری شعور کی ترجمانی کا فریضہ اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر نئے افکار اور عملی پیش رفت کا ساتھ دے سکے-اردو میں اس نظریے کی اشاعت سب سے پہلے سر سیّد کے مضامین کے ذریعے ہوئی تھی اور سر سیّد نے ہی ایک سائنسی اسلوب کی بنیاد ڈالی تھی جو کہ جدید صحافت کے لیے موزوں اور مناسب تھا-اردو صحافت کے ترقی پذیر دور میں صحافیوں نے ان تمام باتوں کا خیال رکھا جن سے زبان کو فروغ حاصل ہو- سر سیّد نےمفید صحافتی کارنامے انجام دئے- غازی پور میں انہوں نے جو سا ئینٹفک سو سائٹی قائم کی اسی نام سے اخبار" سا ئینٹفک سوسائٹی"بھی جاری کیا-علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ بھی اسکی بدلی ہوئی شکل تھی-جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے-ان سب کوششوں میں اہم اور نمایاں درجہ تہذیب الاخلاق کو حاصل ہوا- کیونکہ اس میں علمیت زیادہ تھی-اس کے مضامین عام اور سطحی اخباری دلچسپی سے زیادہ قوم کو گہرے ذہنی انقلاب کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتے تھے-سر سیّد احمد خاں کے بعد بھی ان صحافیوں نے اردو زبان کے فروغ میں حصّہ لیا، جن کے ذہنی دریچے کھلے ہوۓ تھے-صحافتی مضامین کا کمال یہ ہے کہ ان میں نہ صرف حالیہ زندگی کی نبض دھڑکتی ہوئی محسوس ہو بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی بھی نشاندہی ہونی چاہیے- جن صحافیوں نے اس معیار کو پیش نظر رکھا وہ زبان کی خدمت کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی خدمت کا بھی حق ادا کر گئے-سر سیّد احمد خاں کے"تہذیب الاخلاق"جاری کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو پرانے خیالات سے نکالا جاۓ اور جدید علوم و فنون کی طرف لوگوں کو راغب کیا جاۓ-اس کے بعد 1953 میں مولانا حسرت موہانی کا رسالہ"اردوۓ معلیٰ"اسی علی گڑھ سے شائع ہوا-اسی وقت مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی"لسان الصدق"کے ذریعےمیدان صحافت میں قدم رکھا - ان دونوں نے صحافت اور آزادی کی جدوجہد میں بےمثال قربانیاں بھی دیں-مولانا آزاد نے بعد میں ہفتہ وار "الہلال"اور"البلاغ" جاری کیا- ایک بیان تو یہ بھی ہے"انقلاب زندہ باد"کا نعرہ حسرت موہانی کی زندہ جاویدیادگار ہے-
ایک اندازے کے مطابق اگست 1947 تک ہندوستان میں اردو کے 548 اخبارات و جرائد شائع ہو رہے تھے-جب 1956 میں رجسٹرارآف نیوزپریس آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا میں آیا تو ملک بھرمیں شائع ہونے والے تمام اخبارات و رسائل کی تفصیلات جمع کرنے اور شائع کرنے کا کام شروع ہوا-چنانچہ 1957 اخبارشماری کا اولین سال تھا- اس رپورٹ کے مطابق 1957 میں اردو کے اخباروں کی کل تعداد 513 تھی-اس طرح 1983 میں جو رپورٹ شائع ہوئی اس کے مطابق 1982 میں شائع ہونے والے اردو اخبارات کی تعداد 1330 ہے، جو 1957 کے مقابلے تقریباً تین گنا زیادہ ہے- اس اعداد و شمار کو سامنے رکھا جائے تو پتہ چلتا کہ اردو اخبار نے ہر اعتبار سے شاندار ترقی کی ہے- جس جدید صحافت کا خواب سر سیّد احمد خاں نے دیکھا تھا، آج ہمارا ملک دیانت دارانہ اور عادلانہ صحافت کی قدروقیمت سے محروم ہو چکا ہے-اور وہ اس حقیقت سے نا آشنا ہے کہ صحافت کو چوتھی حکومت کہا گیا ہے-صحافت حق گوئی اور باطل شکنی کا دوسرا نام ہے-یہ ایک قومی رابطہ ہے حکومت اور عوام کے درمیان، خود عوام اور اس کے مختلف طبقات کے درمیان، مختلف فرقوں اور خیالات کے درمیان، یہ رابطہ قومی ہونے کے ساتھ ساتھ جتنا مثبت ، جتنا خیرپسند اور جتنا خیرسگالی ہوگا معاشرہ اسی طرح صحت مند اور ترقی کی منزل کی طرف گامزن ہو گا-صحافی کا کردار معاشرے کے مصلح کا کردار ہوتا ہے- اس کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ واقعات اور حالات کے تعلق سے صداقت اور حقیقت اس انداز میں پیش کرے کہ باہمی نفرت اورغلط فہمی کی خلیج پر ہو جاۓ-دراصل ایسی ہی صحافت کی بنیاد سر سیّد احمد خاں کی صحافت کا اصل مقصد تھا-
(محمد جہانگیر وارثی)
[تہذیب الاخلاق:شمارہ؛ اپریل 1997 سے ترمیم کے ساتھہ ماخوذ)