پریم چند
بنارس سے چار پانچ میل دور لمہی نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے اسی گاؤں میں ٣١جولائی ١٨٨٠ کو منشی عجائب لال کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام دھنپت رائے رکھا گیا اور جو بڑا ہو کر ہندستانی ادب کی دنیا میں پہلے نواب رائے اور پھر پریم چند کے نام سے مشہور ہوا .
آٹھ سال کی عمر تک دھنپت رائے کی تعلیم اسی گاؤں میں ہوئی. انہوں نے سب سے پہلے ایک مسلمان مولوی سے اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی. وہ اکثر سبق رٹنے کی محنت سے دور بھاگتے تھے . کھیتوں اور جنگلوں کی سیر کرتے -، چرا کر گنے یا پھل کھاتے ، یا پھر ریل گاڑی کا تماشا دیکھتے. ان کی بوڑھی دادی رات کو پریوں اور شہزادوں کو کہانیاں سناتیں ،جنہیں وہ شوق سے سنتے تھے .
دھنپت رائے کے والد ڈاک خانے میں کلرک تھے .جب ان کا گورکھ پور تبادلہ ہوا تو وہاں ایک مشن اسکول کی چھٹی جماعت میں ان کا نام لکھا دیا گیا. فارسی ، انگریزی، اور تاریخ سے پریم چند کو دلچسپی تھی . لیکن حساب میں کمزور تھے اور ہمیشہ اسی مضمون میں ناکام ہوتے تھے . انگریزی ناول اور اردو کی داستانیں بہت شوق سے پڑھتے تھے .ان کے بعض دوستوں نے لکھا ہے کہ ڈکنز کے باز طویل ناولوں کے قصّے وہ بڑی خوبی سے بیان کرتے تھے .
١٨٩٦ میں جب دھنپت رائے کی عمر پندرہ سال تھی، ان کے والد نے ان کی مرضی کے بغیر ان کی شادی کر دی. بیوی ایک زمیندار کی بیٹی تھی لیکن جاہل، بدصورت اور موٹی. دھنپت رائے کو اس سے کبھی محبّت نہ ہو سکی اور چند سال کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے اس سے الگ ہو گئے. ١٨٩٧ میں ان کے والد چل بسے اور گھر کی ذمہ داری دھنپت رائے کے سر پر آ پڑی. اس زمانے میں وہ پڑھاتے بھی تھے اورپڑھتے بھی. کبھی کبھی غربت اتنی بڑھ جاتی کہ انھیں اپنے کپڑے اور کتابیں بیچنی پڑتیں.
آخر کار ١٨٩٩ میں انہوں نے میٹرک کا امتحان دوسرے درجے میں پاس کر لیا. اس کے بعد وہ پندرہ روپے ماہانہ پر ایک اسکول میں مدرس ہو گئے. ١٩٠٤ میں وہ ٹریننگ کے لئے الہ آباد کے ایک کالج میں داخل ہو گئے. یہاں پہنچ کر انہیں کتابیں لکھنے کا شوق ہوا اور ان کا پہلا ناول "اسرار معابد" بنارس کے ایک رسالے میں شائع ہونا شروع ہوا.
مئی١٩٠٥ میں دھنپت راۓ کا تبادلہ کانپور ہو گیا .
ان کی تنخواہ اب پچیس روپے ہو گئی تھی. کانپور میں اردو کے مشہور رسالے "زمانہ" کے ایڈیٹر دیا نرائن نگم سے ان کی دوستی ہو گئی اور وہ پابندی کے ساتھ " زمانہ میں لکھنے لگے.
یہ دھنپت رائے کی جوانی کا زمانہ تھا . وہ تندرست اور خوبصورت تھے . اسی زمانے میں کئی سال تک ایک لڑکی سے انہوں نے عشق بھی کیا .لیکن کسی وجہ سے اس سے شادی نہیں ہو سکی . تب انہوں نے سولہ برس کی ایک بیوہ سے دوسری شادی کر لی جس سے ان کے تین بچے پیدا ہوئے جو آج بھی زندہ ہیں.
فروری ١٩٢١ تک دھنپت رائے ، جو اب پریم چند کے نام سے مشہور ہو گئے تھے، ہمیر پور ، بستی اور گورکھپور میں مدرس اور سب ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز رہے. ١٩٠٩ میں جب ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ"سوز وطن" شائع ہوا تو سرکار نے اسے ضبط کر کے جلا دیا . اس لئے کہ اس میں وطن پرستی اور قومی بیداری کا کھلا پیغام تھا. اس کے بعد دسمبر ١٩١٠ سے وہ پریم چند کے فرضی نام سے لکھنے لگے.
تک پریم چند ہندی اور اردو کے ادیب کی حیثیت سے سارے ملک میں مشہور ہو چکے تھے. ان کے ناول اور افسانے شمالی ہندوستان میں بہت پسند کیے جاتے تھے. یہ وہ زمانہ تھا جب ملک میں آزادی کی تحریک بڑھ رہی تھی. مہاتما گاندھی کی رہنمائی میں عدم تعاون اور ستیہ گرہ کی تحریک کامیاب ہو رہی تھی. ہزاروں ہندوستانی سرکاری ملازمتوں سے استعفا دے رہے تھے. پریم چند نے بھی ١٦ فروری ١٩٢١ کو استعفا دے دیا .
اس کے بعد پریم چند زیادہ آزادی اور بےباکی کے ساتھ لکھنے لگے. اب وہ اردو کے علاوہ ہندی میں بھی لکھنے لگے. کئی سال تک لکھنؤ کے ایک ہندی رسالے مادھوری کے ایڈیٹر رہے. پھر ١٩٣٠ میں اپنا ایک ہندی رسالہ ہنس جاری کیا . اس رسالے نے ہندوستانی ادب کی بہت خدمت کی.
پریم چند کی گھریلو زندگی بڑی سادہ تھی. وہ مذہب، ذات پات اور رسم و رواج کو زیادہ نہیں مانتے تھے. جب ان کی لڑکی کملا کی شادی ہوئی تو انہوں نے ایک ہندو رسم "کنیا دان " ادا کرنے سے انکار کر دیا . اس پر بہت جھگڑا ہوا ، مگر وہ نہ مانے. اپنے بچوں کو اپنا دوست سمجھتے تھے اور اکثر بچہ بن کر ان کھیلوں میں حصّہ لیتے تھے. ان کے دوست اور رشتے دار اکثر ان سے روپیہ یا ان کے کپڑے وغیرہ لے جاتے اور کبھی واپس نہ کرتے. اس پر ان کی بیوی ان سے لڑتیں جھگڑتیں، لیکن وہ باز نہ آتے. کبھی کبھار دوستوں کی محفل میں شراب بھی پی لیتے.
ان کا رہن سہن اور لباس بہت سادہ تھا. انہوں نے اپنی بیوی شورانی کو بھی لکھنے پڑھنے پر اکسایا، جن کی کہانیوں کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں. ان کے بڑے لڑکے شری پت رائے ایک مصور ہیں. انہوں نے ایک مسلمان لڑکی زہرہ سے شادی کی. چھوٹا لڑکا امرت رائے ہندی کا مشہور ادیب ہے.
١٩٣٤میں پریم چند کو اجنتا سینی ٹون فلم کمپنی نے نو ہزار روپے سالانہ تنخواہ پر بمبئی بلایا. بمبئی پہنچ کر انہوں نے کئی فلمی کہانیاں لکھیں. لیکن وہاں کی زندگی انہیں راس نہ آئی. ڈائریکٹر اور پروڈیوسر سستی عشقیہ کہانیاں چاہتے تھے اور پریم چند کی شہرت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے. اس کے لئے وہ تیار نہ ہوئے اور ایک سال بعد بنارس واپس آ گئے.
کام کی کثرت اور کھانے پینے میں بے احتیاطی کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہو گئی. پیٹ اور جگر کی تکلیف بڑھ گئی. آخر کار ٨ اکتوبر ١٩٣٦ کو وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے.
پریم چند اس صدی کے چند ممتاز ہندوستانی ادیبوں میں سے ایک ہیں.انہوں نے اردو اور ہندی زبان میں مغربی معیاروں کو سامنے رکھ کر کئی اچھے ناول اور افسانے لکھے. ہندوستانی عوام کے دکھ درد کوانہوں نے اپنا دکھ درد سمجھا اور پہلی بار اردو اور ہندی میں کسانوں، مزدوروں اور متوستط طبقے کی زندگی کو ادب کا موضوع بنایا. اس سلسلے میں مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو کے خیالات نے ہمیشہ ان کی رہنمائی کی. آخری عمرمیں وہ ترقی پسند تحریک سے بھی متاثر ہوئے. وہ امریکی زندگی کی ترقی اور وہاں کی خوش حالی سے بھی متاثر تھے . ان کے ایک ناول "گوشئہ عافیت" کا ہیرو پریم شنکر کئی سال تک امریکا میں رہ کر ہندوستان آتا ہے. اور کسانوں کی خوش حالی کے نئے منصوبے بناتا ہے. وہ کسانوں کو ان کی زمین کا مالک بنا دیتا ہے اور گاؤں والوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے.
پریم چند نے ناول اور افسانوں کے علاوہ ڈرامے اور انشائے بھی لکھے. کئی مغربی شاہکاروں کے ترجمے بھی کئے لیکن افسانہ اور ناول میں انہیں سب سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی.
پریم پچیسی، پریم چالیسی، زاد راہ اور واردات انکے افسانوں کے نمائندہ مجمو عے ہیں. گئودان، میدان عمل اور گوشئہ عافیت انکے بہترین ناول کہے جاسکتے ہیں.
(قمر رئیس)