مینا بازار

     ترکستان میں دستور ہے کہ ہفتے میں دو دفعہ یا ایک دفعہ ہر شہر میں بازار لگتے ہیں. اس آبادی کے اور آس پاس کے لوگ ایک جگہ آ کر جمع ہوتے ہیں. عورتیں ریشم، سوت، ٹوپیاں، رومال، دستکاری وغیرہ بیچنے کو لاتی ہیں. مرد اپنی اپنی جنس سے بازار کو گرم کرتے ہیں. مرغی اور انڈے سے لے کر گھوڑوں تک، اور گاڑھے سے لے کر قالین
تک ہر چیز، موجود ہوتی ہے اور دوپہر تک سب بک جاتی ہیں. اکثر لین دین مبادلے میں ہوتے ہیں. اکبر نے اس رواج کو ترقی دی. آئین اکبری میں لکھا ہے کہ ہر مہینے معمولی بازار کے تیسرے دن قلعے میں زنانہ بازار لگتا تھا. اس زنانہ بازار میں محل کی بیگمات آتی تھیں. امرا و شرفا کی بیویوں کو بھی اجازت تھی ، جو چاہے آئے اور تماشا دیکھے. دکانوں پر تمام عورتیں بیٹھ جاتی تھیں، سودا زیادہ تر زنانہ رکھا جاتا تھا. عورتیں ہی پہرے پر ہوتی تھیں. مالیوں کی جگہ بھی مالنیں چمن کی دیکھ بھال کرتی تھیں.
     بادشاہ آپ بھی آتا تھا. اپنی رعایا کی بہو بیٹیوں کو دیکھ کر ماں باپ کی طرح خوش ہوتا تھا. جہاں مناسب جگہ دیکھتا تھا، بیٹھ جاتا تھا. بیگمات، بہنیں ، بیٹیاں پاس بیٹھتی تھیں. امرا کی بیویاں آ کر سلام کرتیں. نذریں دیتیں. بچوں کو حاضر کرتیں. ان کی نسبتیں طے ہوتیں اور حقیقت میں یہ بھی آئین کا ایک جز تھا، کیوں کہ امرا کی باہمی محبّت اور دشمنی کا اثر بادشاہ کے کاروبار پر پڑتا تھا. کبھی دو امیروں میں بگاڑ ہو جاتا تھا. بادشاہ چاہتے تھے کہ ان میں بگاڑنہ رہے. اس کا یہی علاج تھا کہ دونوں گھر ایک ہو جائیں. جب وہ نہ مانتے تو بادشاہ کہتے تھے کہ اچھا ، یہ لڑکا یا لڑکی ہماری، تمہیں اس سے کچھ کام نہیں. وہ یا اس کی بیوی ناز سے کہتے :"حضور آپ ہی کے لئے پالا تھا." بادشاہ کہتے: "بہت خوب ". کبھی بیگم شادی کا ذمہ لے لیتیں، کبھی بادشاہ لے لیتے . اور شادی دھوم سے ہوتی.
     اسی مینا بازار میں سلیم (جہانگیر) کا دل زین خاں کوکہ کی بیٹی پر آیا اور ایسا آیا کہ قابو ہی میں نہ رہا. اچھا ہوا کہ اس کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی. اکبر نے خود شادی کر دی. لیکن دوسرا وہ معاملہ ہے جو بزرگوں سے سنا ہے. یہی مینا بازار لگا ہوا تھا ، جہانگیر ان دنوں نوجوان لڑکا تھا. بازار میں پھرتا ہوا چمن میں آ نکلا. ہاتھ میں کبوتر کا جوڑا تھا. سامنے کوئی پھول کھلا ہوا نظر آیا ، بہت بھایا-. چاہا کہ توڑے ، دونوں ہاتھ رکے ہوئے تھے. وہیں ٹھہر گیا. اتنے میں سامنے ایک لڑکی آئی. شہزادے نے کہا :" بوا ! ذرا ہمارے کبوتر تم لے لو، ہم وہ پھول توڑ لیں." لڑکی نے دونوں کبوتر لے لیے. شہزادے نے کیاری میں جا کر چند پھول توڑے. واپس آیا تو دیکھا کہ لڑکی کے ہاتھ میں ایک کبوتر ہے. پوچھا :"دوسرا کبوتر کیا ہوا؟" عرض کی :" صاحب عالم وہ تو اڑ گیا." پوچھا :" ہیں ! کیوں کر اڑ گیا؟" اس نے ہاتھ بڑھا کر دوسری مٹھی بھی کھول دی کہ "حضور یوں اڑ گیا." اگرچہ دوسرا کبوتر بھی ہاتھ سے گیا مگر شہزادے کا دل اس انداز پر لوٹ گیا. پوچھا "تمہارا نام کیا ہے؟" عرض کی "مہر النسا خانم." پوچھا "تمہارے باپ کا کیا نام ہے؟" عرض کی :"مرزا غیاث، حضور کا ناظم بیو تات ہے." کہا "دوسرے امرا کی لڑکیاں محل میں آیا کرتی ہیں ، تم ہمارے ہاں نہیں آتیں . کہا "میری اماں جان تو آتی ہیں ، مجھے نہیں لاتیں ، ہمارے ہاں لڑکیاں گھر سے باہر نہیں نکلا کرتیں. آج بھی بڑی منتوں سے یہاں لائی ہیں." کہا :" تم ضرور آیا کرو." وہ سلام کر کے رخصت ہوئی. جہانگیر باہر آ گیا. مگر دونوں کو خیال رہا. اگلی بار جب مرزا غیاث کی بیوی محل میں جانے لگی تو بیٹی کے کہنے سے اسے بھی ساتھ لے لیا.

بیگم نے دیکھا ، بچپن کی عمر ، اس میں ادب کا لحاظ، بہت بھلی معلوم ہوئی. باتیں بھی پیاری لگیں. بیگم نے بھی کہا :"اسے تم ضرور لایا کرو ." آہستہ آہستہ آنا جانا زیادہ ہوا. شہزادے کا یہ خیال کہ جب وہ بیگم کے پاس آ ئے تو وہاں موجود، وہ دادی کے سلام کو جائے تو وہاں حاضر. کسی نہ کسی بہانے سے خواہ مخواہ اس سے بولتا. اگر بات چیت کرتا تو اس کا طور ہی کچھ اور. نگاہوں کو دیکھو تو انداز ہی کچھ اور. بیگم تاڑ گئی. اور بادشاہ سے عرض کی. اکبر نے کہا :"مرزا غیاث کی بیوی کو سمجھا دو ، چند روز لڑکی کو یہاں نہ لائے." اور مرزا غیاث سے کہا کہ لڑکی کی شادی کر دو.
     جب خان خاناں بھکر کی مہم پر تھا تو طہماسپ قلی بیگ ایک نوجوان ایران سے آیا تھا اور اس مہم میں بہادری دکھا کے اس کےمصاحبوں میں داخل ہو گیا تھا. شیرا فگن خان کا خطاب حاصل کیا تھا. بادشاہ نے اس کے ساتھ نسبت ٹھہرا دی اور جلد ہی شادی کر دی. یہی شادی اس جوان کی بربادی تھی. انجام اس کا یہ ہوا کہ جو نہ ہونا تھا ، سو ہوا. شیر افگن خاں موت کا شکار ہو کر جوانمرگ دنیا سے گیا. مہر النسا بیوہ ہوئی. چند روز کے بعد جہانگیر کے محلوں میں آکر نور جہاں بیگم ہو گئی. افسوس نہ جہانگیر رہے نہ نورجہاں رہیں، ناموں پر دھبا رہ گیا.

(محمد حسین آزاد)