خوشبو

جمنی نے کھانستے کھانستے اپنی چھاتی دبالی - پھر کھانسی کے زور پر مشکل سے قابو پاتے ہوئے اس نے اپنی دھندلی نظروں کو ادھر ادھر گھماتے ہوئے بے حد نحیف آواز میں بیٹی کو پکارا......للیا.....ارے او للیا....."
للیا اس کمرے کے کچے مکان کے دروازے پر اپنے پیر پھیلاۓ یوں بیٹھی تھی جیسے کسی راج محل کی کماری ہو - اس کے سانولے تندرست چہرے پر بھولے پن کے ساتھ ساتھ ایک قسم کا غرور بھی جھلکتا تھا.....ماں کی پکار پر اس نے ناگواری سے اندر جھلنگی چارپائی پر سمٹی ہوئی ماں کے کمزوروجود کی طرف دیکھا اور پھر اسی لاپرواہی سے چپ چاپ بیٹھی رہی -
جمنی کو ایک بار پھر زور کی کھانسی اٹھی اور وہ کھانستے کھانستےرکی تو اس کی سانسیں تیز چل رہی تھیں.....اس نے اپنی آنکھوں میں آۓ ہوۓ پانی کو پوچھتے هوئے ایکبار پھر بیٹی کو پکارا تو وہ پیر پٹکتی ہوئی اندرآئی.....اور قدر جھنجھلاۓ ہوۓ لہجے میں کہا.....
سمجھ گئی.....سمجھ گئی - تیرے پیٹ میں پھر آگ لگی ہے - اس لیے میں برتن دھونے جاؤں اور روٹی لا کر تیرے پیٹ کا دوزخ بھروں -"
"ارے سن تو.....ذرا پانی دے دے - اپنے آپ ہی تو سب لیتی ہے اپنے لئے نہیں..... اگر جانے کو کہتی ہوں تو تیرے لئے نہیں گئی تو کھائے گی کیا -"
جمنی ذرا سانس لینے کے لیے رکی، پھر بولی..... کھانسی سے گلا سوکھ گیا ہے - ذرا لوٹے میں پانی دے اور جا کام پر.....نہیں.....تو.....اوشا بہن جی ناراض ہوں گی - روز نیا کام کہاں سے ڈھونڈھے گی - پگلی -"
".....میں آج کام پر نہیں جاؤں گی.....للیا نے سر کشی سے کہا اور لوٹا اٹھا کر جھپاک سے کمرے سے باہر نکل گئی....."
جمنی کا للیا کا یہ غصہ بھی پیارا لگا اور اس کا دل ترس سے بھر گیا - سولہ سترہ سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے - کھیلنے اور کھانے کے دن - مگر اس کا باپ تو دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے کے قابل بھی نہیں.....جمنی نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اس کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں - جب وہ خود اس عمر کی تھی کتنی بے فکری، خوش اور مطمئن تھی اور اس کی زندگی - دیکھنے میں جیسی للیا ہے ویسی ہی وہ تھی ١٦- ١٧ برس کی عمر میں.....اس نے اپنے سوکھے سوکھے ہاتھ پیروں کو دیکھا - ان پچیس سالوں میں اس کا جسم غریبی، اور جدوجہد اور بھوک کی تپش میں پگھل ختم ہو چکا تھا - شادی کے بعد اس نے کچھ دن بھی تو سکھ کے نہیں دیکھے جبکہ شادی کے پہلے انیس برس ایسے گذارے تھے کہ غم اور فکر جیسے الفاظ سے بھی وہ نا آشنا تھی -
للیا پانی لے کرآئی تو جمنی کے خیالوں کا تسلسل ٹوٹا، پانی لیتے ہوئے اس نے ممتا بھری نظروں سے للیا کو دیکھا....." بیٹی.....جا ضد مت کر "تجھے بھوک نہیں؟".....للیا نے سوجے ہوئے چہرے کے ساتھ پوچھا "نہیں رے مجھے اب بھوک نہیں لگتی -" وہ تو زندہ ہوں اس لئے ایک روٹی حلق سے اتارنی پڑتی ہے "جمنی نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہا -
ہاں تجھے بھوک کیوں لگے گی - تجھے پوریاں ملتی تبھی کھا ئے گی -"للیا کی بات سن کر جمنی چپ رہی تو للیا نے کہا.....میں جا رہی ہوں - اب سانجھ کو ہی لوٹوں گی تیری روٹی لے کر....."
"اری سن....."جاتی ہوئی للیا کو اس نے جلدی سے پکارا....."تو بہن جی سے کہنا تھوڑا آٹا ہی دے دیں - روٹی مت لینا - گھر میں سانجھ کو چولھا جلتا ہے تو بہت اچھا لگتا ہے -"
ماں کی بات سن کر للیا کا پارہ پھر ساتویں آسمان پر چڑھ گیا....."بس تجھے ہری ہری سوجھنے لگی.....ایک تو میں سارا دن ادھر مر کر آؤں - پھر یہاں تیرے لئے گرم روٹی پکاؤں، دم نکلنے کو ہے اور شوقینی میں کمی نہیں آئی -" للیا بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی -
تو جمنی اپنے آپ سے ہی بولی.....تو نہیں سمجھے گی رے.....مجھے روٹی کی بھوک نہیں - مجھے تو سانجھ کو پکی ہوئی روٹی کی خوشبو چاہئے - میرا پیٹ اسی سے بھرجاۓ گا.....روٹی کی خوشبو تو کیا جانے.....جمنی ڈوبنے لگی اپنے ماضی میں جہاں مٹھاس ہی مٹھاس تھی.....یادوں کی مٹھاس یادوں کی کسک، پر نہ جانے کون سا درد ہے جو اسے اچھا لگتا ہے.....آنسو کی لڑی اس کی آنکھوں سے ڈھلک کر اس کی میلی کچیلی ساڑی کے پلو میں جذب ہو گئی - اور آنکھوں کے سامنے اسے اپنا بچپن اور لڑکپن ڈولتا ہوا محسوس ہوا.....
اسے یاد آیا کہ جہاں اس نے ہوش سنبھالا تھا..... وہ ایک بہت ہی کھاتا پیتا خاندان تھا، جہاں اس کی ماں کام کرتی تھی اور اس بڑے سے گھر کے شاندار رسوئی گھر کے پاس اس کی ماں کا کمرہ تھا..... دونوں ماں بیٹی اسی کمرے میں رہتی تھیں - اس گھر کا ہر کام اور خاص کر رسوئی اس کے ماں کے سپرد تھی.....وہ خود تو وہاں کے بچوں کے ساتھ ہر وقت کھیلتی رہتی تھی - اس گھر کے ہر فرد کے ساتھ رہ کر اس نے ہر ہنر اور لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا حالانکہ وہ یہاں کے دوسرے بچوں کی طرح اسکول نہیں جاتی تھی اور ان کے جوٹھے کھانے اور اتارے کپڑے بھی اس کے حصہ میں آ ۓ تھے مگر اسے یہ سب کچھ برا نہیں لگتا تھا کیونکہ وہ اپنی حیثیت سے واقف تھی اور ساتھ ہی ان لوگوں کے خلوص اور محبت سے شاکی بھی نہیں تھی - اس نے اسی گھر میں ہوش سنبھالا اور یہیں اپنے شوق اور ان لوگوں کی کوششوں سے بہت کچھ سیکھ گئی - اس طرح گذرتے ہوۓ وقت نے اس کے لاشعوری میں اس ماحول کو اس طرح اتار دیا تھا کہ اسے کسی آہٹ کا گمان تک نہ ہوا.....وہ بہت خوش اور مطمئن زندگی وہاں گذار رہی تھی - اسے اچھی طرح یاد تھا کہ بچپن سے ہی شام کو پکنے والی روٹی کی خوشبو اسے اتنی اچھی لگتی تھی وہ اس وقت چاہے کتنا بھی دلچسپ کھیل کھیل رہی ہو.....روٹی کی اس مہک سے کھینچی چلی آتی اور للچائی ہوئی نظروں سے ماں کو دیکھتی جب کہ ماں کو اس کی اس عادت سے چڑ تھی اس لۓ جمنی کو دیکھتے ہی جھنجھلا جاتی - بس دو چار روٹیاں بھی نکلنے نہیں دیتی اور موٹی بلی کی طرح سونگھتی ہوئی پہنچ جاتی ہے، اور بھی تو بچے ہیں اس گھر میں مگر کسی کو تیری بھوک نہیں لگتی - اپنی اس جھنجھلاہٹ کے ساتھ وہ ایک روٹی اس کے ہاتھ میں اس طرح پکڑا دیتی جیسےکہہ رہی ہو.....جا مر..... میرا پیچھا چھوڑ....."

جمنی نہ جانے کب سے اسی طرح ما ں کی جھڑکیوں کے ساتھ شام میں پکنے والی روٹی کھاتی آرہی تھی.....اور اس وقت کی یہ روٹی اسے دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر اچھی لگتی مگر ایک وقت ایسا آیا کہ اسے اس طرح روٹی لے کر کھانے میں شرم آنے لگی - لیکن شام میں پکنے والی روٹی کی خوشبو سے اس کا وہی لگاؤ رہا.....اس کی کشش اس کے لئے اب بھی اسی طرح باقی تھی.....وہ کہیں بھی رہتی، کچھ بھی کرتی رہتی.....اس وقت کی یہ خوشبو وہ اپنی سانسوں سے بھر لیتی.....روح میں اتار لیتی -

اسے اس تلخ حقیقت کا احساس تک نہیں ہوا کہ وقت کتنی تیزی سے گذر گیا اور جب وقت کے گھومتے ہوۓ پہیئے کے نیچے اس کا اپنا وجود آیا تو وہ کرچی کرچی ہو کر بکھر گئی - تب اسے اس حقیقت کا احساس ہوا کہ وقت ایک ہی سرد اور ظالم جھونکے نے گھر کے ہر فرد کو سوکھے پتوں کی طرح بکھیردیا ہے - نہ جانے کب چپکے سے اس گھر کی بزرگ ہستی دادی اماں نے اجل کی گود میں پناہ لے لی - ماں وقت سے پہلے کچھ ہی دن کی بیماری میں چل بسی،اور روحی آپا پیا کےدیش سدھاریں - پھر گھر میں اس کی شادی کی بات ہونے لگی - اب وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی کیونکہ اب وہ اس میں جس جس کے بےحد قریب تھی وہ سب جا چکے تھے- اب اسے سب سے زیادہ جس سے لگاؤتھا وہ دادا ابّا تھے لیکن ان کے رعب ودبدبے کے آگے ان کے سامنے نظر اٹھانے کی بھی ہمت اس میں نہیں تھی بس دور دور سے ہی ان کا ہر خیال رکھتی - ان کے سفید ریشم سے بالوں والا سر، ان کے سفید کمزور پیر، اسے اتنے بلند عظیم لگتے کہ اس کا دل چاہتا کہ وہ ان کے قدموں میں اپنا چہرہ چھپا کر خوب روئے اور کہے دادا ابّا.....مجھے اس گھر سے الگ مت کیجئے..... مجھے یہیں ایک کونے میں پڑا رہنے دیجئے - میں ماں کی طرح پورا گھرسنبھال لوں گی - لیکن میری شادی مت کیجئے- وہ جب جب سنتی کہ اس کے لئے کوئی رکشہ والا، کوئی مزدور یا کوئی درزی دیکھا جا رہا ہے تو وہ لرز جاتی.....وہ جسے بچپن سے اس صاف ستھرے ماحول کو اپنا سمجھا ہے وہ کیسے ایک جاہل شخص سے اوجڑ باتوں، گالیوں اور اوچھی حرکتوں کے ساتھ زندگی گذار سکےگی - وہ جانتی تھی کہ وہ خود ایک کم ذات، غریب اور بےسہارا لڑکی ہے - ایک سبزی بیچنے والی کی بیٹی جس نے بعد میں اپنا پیشہ چھوڑ کر اس گھر میں پناہ لے لی تھی - اس لئے کبھی اس نے سنہرے سپنے نہیں سجاۓ تھے - پھر بھی وہ جانتی تھی کہ اس باغ کا پھول نہ ہونے کے باوجود اگر اسے یہاں سے اکھاڑ کر کہیں اور لگایا گیا تو وہ پھر سے کھل نہیں پاۓ گی.....مرجھا جاۓ گی..... کیونکہ وہ یہاں کی آب وہوا کی عادی ہو چکی تھی -

مگر وہ اپنی قسمت کی لکیر نہیں بدل سکتی تھی - انیسواں سال پورا ہوتے ہی اس کی شادی ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ کر دی گئی.....گھر والے یہ سوچ کر مطمئن تھے کہ روز پچاس روپے کمانے والے شخص کے ساتھ خوش رہے گی.....جمنی نے بھی نکاح کے بول کے ساتھ خود کو اس ڈرائیور کے ساتھ بندھا پایا کہ کبھی اس بندھن سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی..... خود کو اس ماحول میں ڈھالنے کی پوری پوری کوشش.....اور کسی طرح غریب کی تنگدستی میں شب و روز گذرتے رہے - شادی کے سات آٹھ سال بعد بیٹی ہوئی مگر اس وقت تک حالات اور بھی بعد سے بدتر ہو چکے تھے - اس کے شوہر کے پینے کی لت بڑھ گئی تھی اور کام کرنے کی عادت کم ہو گئی اس لئے جمنی ہی ادھر ادھر کے گذارے کا انتظام کرتی.....مگر اسے احساس تھا کہ وہ بیٹی کی اچھی پرورش تو کیا کرتی اسے پورا کھانا، کپڑا بھی نہیں دے پاتی تھی اسے اپنا بچپن یاد آتا.....اور للیا کودیکھتی تو گھٹن اور دکھ کے احساس سے بھر جاتی- دکھ کا یہ احساس اسے اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ گیا.....اور بیالیس برس کی عمر میں ہی وہ معذور ہو کر چارپائی پر لیٹ گئی - اب اس کی ذمہ داریاں دو سال سے للیا ڈھو رہی تھی..... جب سے اس نے کھاٹ پکڑی تھی شاید ہی کبھی گھر میں چولہا جلتا ہو -
جمنی نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا تو اسے لگا کہ ماضی میں ڈوبتے ابھرتے اس کا پورا دن نکل گیا تھا اور شام اترآئی تھی- اس نے اپنے سینے میں تیز جلن محسوس کی.....بڑی مشکل سے ہاتھ بڑھایا کر لوٹا اٹھایا اور پانی کا گھونٹ لیا تولوٹا اس کی ہاتھ سے پھسل گیا اور وہ سر چارپائی کی پٹی پر ڈال کر ہانپنے لگی- جیسے ایک لمبے سفر کے ساتھ اب تھک گئی تھی، ہارگئی تھی - تبھی للیا کوٹھری میں داخل ہوئی.....اس کے ہاتھ میں دو چار لکڑیاں اور ایک پوٹلی تھی - اس وقت اس کے چہرے پر خوشی کی دمک تھی -
ماں دیکھ میں تیرے لئے آٹا لے آئی- تجھے بھوک لگی ہو گی نا.....؟ابھی گرم گرم روٹی پکاتی ہوں - "للیا نے چہکتے ہوۓ کہا تو جمنی نے اپنی دھندلی آنکھیں کھولیں.....
کیا بات ہے رے.....آج بڑی خوش ہے-"
"ماں !اوشا دیدی نے آج مجھے اپنا ایک سوٹ اور پانچ روپے دئے ہیں اور دیکھ تیرے لئے آٹا بھی....."
اس نے جلدی جلدی آٹا گوندھتے ہوئے کہا تو جمنی کے نحیف چہرے پر مسکراہٹ کی پرچھائیں آئی - للیا روٹی پکا رہی تھی اور جمنی کی نظریں پکتی ہوئی روٹی سے اٹھتی ہوئی بھاپ پر تھیں - جو ماحول میں رچ بس کر اس کے روح میں اترتی جا رہی تھی.....سیراب کرتی جا رہی تھی للیا دو روٹی تھالی میں ڈال کر ماں کے قریب آئی اور اسے اٹھانے کے لئے سہارا دینے کی کوشش کی تو جمنی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کیا اور اپنی کمزور آواز میں کہا.....یہ تو کھا لے بیٹی.....میرا پیٹ تو اس خوشبو سے ہی بھر گیا....."
للیا نے کچھ نہ سمجھتے ہوۓ ماں کی طرف دیکھا.....مگر اس وقت جمنی کے چہرے پر ایک تسلی تھی جسے اس کی نحیف وجود میں روٹی کی خوشبو کی پیاس باقی نہ ہو جیسے اس کی زرد آنکھوں سے اس کے بچپن، لڑکپن اور جوانی کی تسکین جھانک رہی ہو -

(نسترن احسن فتیحی)