مِرزاغالِؔب

سنا ہے کہ غدر کے بعد جب مرزا غالب کرنل برن کے سامنے گئے تو اوس وقت کُلاہِ پیاخ ان کے سر پر تھی - انہوں نے مرزا کی وضع دیکھ کر پوچھا کہ ول(well) تم مسلمان ؟
مرزا نے کہا : " آدھا -"
کرنل نے کہا : "اس کا کیا مطلب؟"
مرزا نے کہا :"شراب پیتا ہوں، سور نہیں کھاتا -"
کرنل یہ سن کر ہنسنے لگا - پھر مرزا نے وزیرہند کی چٹھی دکھائی جو کہ ملکئہ مُعظّمہ کے قصیدے کے جواب میں آئی تھی - کرنل نے کہا :"تم سرکار کی فتح کے بعد پہاڑی پر کیوں نہ حاضر ہوئے؟"
مرزا نے کہا :"میں چار کہاروں کا افسر تھا، وہ چاروں مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے، میں کیوں کر حاضر ہوتا ؟"
کرنل نے نہایت مہربانی سے مرزا اور ان کے تمام ساتھیوں کو رخصت کر دیا -
...............................
آم مرزا غالب کو نہایت پسند تھا - آموں کی فصل میں ان کے دوست دور دور سے ان کے لیے عمدہ عمدہ آم بھیجتے تھے اور وہ خود اپنے بعض دوستوں سے تقاضا کر کے آم منگواتے تھے -
حکیم رضی الدین خاں جو مرزا کے گہرے دوست تھے، ان کو آم نہیں بھاتے تھے - ایک دن وہ مرزا کے مکان پر برآمدے میں بیٹھے تھے اور مرزا بھی وہیں موجود تھے - ایک گدھے والا اپنے گدھے لئے ہوئے گلی سے گذرا - آم کے چھلکے پڑے تھے - گدھے نے سونگھ کر چھوڑ دیا - حکیم صاحب نے کھا :"دیکھیئے آم ایسی چیز ہے، جسے گدھا بھی نہیں کھاتا -"
مرزا نے کہا :"بے شک، گدھا نہیں کھاتا -"
.................................
شراب کے متعلق مرزا غالب کی باتیں مشہور ہیں - ایک شخص نے ان کے سامنے شراب کی برائی کی اور کہا کہ شراب خور کی دعا قبول نہیں ہوتی -مرزا نے کہا :"بھائی جس کو شراب میسر ہے، اس کو اور کیا چاہیے، جس کے لیے دعا مانگے -"
...............................
غدر کے بعد جب کہ پنشن بند تھی اور دربار میں شریک ہونے کی اجازت نہ ہوئی تھی، پنڈت موتی لال مرزا صاحب سے ملنے آئے - کچھ پنشن کا ذکر چلا - مرزا صاحب نے کہا :"تمام عمر میں ایک دن شراب نہ پی ہو تو کافر اور ایک دفعہ نماز پڑھی ہو تو گناہگار - پھر نہیں جانتا کہ سرکار نے کس طرح مجھے باغی مسلمانوں میں شمارکیا -"
.................................
ایک دفعہ مرزا مکان بدلنا چاہتے تھے - ایک مکان آپ خود دیکھ کر آئے - اس کا دیوان خانہ تو پسند آگیا، مگر محل سرا خود نہ دیکھ سکے - گھر پر آکر اس کے دیکھنے کے لیے بی بی کو بھیجا - وہ دیکھ کر
آئیں تو ان سے پسند اور ناپسند کا حال پوچھا - انھوں نے کہا :"اس میں تو لوگ بَلا بتلاتے ہیں -"
مرزا نے کہا :"کیا دنیا میں آپ سے بھی بڑھ کر کوئی بَلا ہے؟"
....................................
دہلی میں رتھ کو بعض مذکر اور بعض مونث بولتے ہیں - کسی نے مرزا صاحب سے پوچھا :"حضرت ! رتھ مونث ہے یا مذکر؟"
آپ نے کہا :"بھیا ! جب رتھ میں عورتیں بیٹھی ہوں تو مونث کہو اور جب مرد بیٹھیں تو مذکر سمجھو-"
..........................
ایک مرتبہ شہر میں سخت وبا پھیلی - میر مہدی حسین مجروح نے لکھا :
"حضرت ! وبا شہر سے گئی یا ابھی تک موجود ہے؟"
مرزا نے جواب دیا :"بھیٔ کیسی وبا ؟ جب ایک ستر برس کے بوڑھے اور ایک ستر برس کی بڑھیا کو نہ مار سکی تو تف بریں وبا !"
..................................
1277 میں اُنھوں نے اپنے مرنے کی تاریخ کہی کہ "غالب مُرد"- اس سے پہلے کئی مادےغلط ہو چکے تھے - منشی جواہر سنگھ جوہر سے ان کے خاص تعلقات تھے - ان سے مرزا صاحب نے اس مادے کا ذکر کیا -
اُنھوں نے کہا :"حضرت! انشاء اللہ یہ مادہ بھی غلط ثابت ہوگا"-
مرزا نے کہا :"دیکھو صاحب! تم ایسی فال منہ سے نہ نکالو - اگر یہ مادہ ٹھیک نہ نکلا سر پھوڑ کر مر جاؤں گا -"
(حالی: یادگارِغالِؔب)

مِرزاغالِؔب کے خطوط
مرزا حاتم علی بیگ مہرؔ کے نام

مرزا صاحب! ہم کو یہ باتیں پسند نہیں - پینسٹھ برس کی عمر ہے - پچاس برس عالم رنگ وبو کی سیر کی - ابتداے شباب میں ایک مرشد کامل نے یہ نصیحت کی تھی کہ ہم کو زُہد و ورع منظور نہیں - پیو، کھاؤ، مزے اڑاؤ - مگر یہ یاد رہے کہ مصری کی مکھی بنو، شہد کی مکھی نہ بنو - سو میرا اس نصیحت پر عمل رہا ہے - کسی کے مرنے کا وہ غم کرے جو آپ نہ مرے - کیسی اشک فشانی، کہاں کی مرثیہ خوانی ؟ آزادی کا شکر بجا لاؤ، غم نہ کھاؤ- اور اگر ایسے ہی اپنی گرفتاری سے خوش ہو تو چنا جان نہ سہی منا جان سہی - میں جب بہشت کا تصور کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اگر مغفرت ہو گئی اور ایک قصر ملا اور ایک حور ملی، اقامت جاودانی ہے اور اسی ایک نیک بخت کے ساتھ زِندگانی ہے - اس تصور سے جی گھبراتا ہے اور کلیجہ منہہ کو آتا ہے - ہے ہے- وہ حور اجیرن ہو جاۓ گی! طبعیت کیوں نہ گھبراۓ گی؟ وہی زمردیں کاخ اور وہی طوبی کی ایک شاخ ! چشم بد دور ! وہی ایک حور ! بھائی ہوش میں آؤ، کہیں اور دل لگاؤ!

مرزاعلاءُالدّین احمدخاں کے نام
مجھے اپنے ایمان کی قسم ، میں نے اپنی نظم و نثر کی داد باندازه بایست پائی نہیں - آپ ہی کہا اور آپ ہی سمجھا - قلندری و آزادگی و ایثار و کرم کے جو دواعی میرے خالق نے مجھ میں بھردیے ہیں ، بہ قدر ہزار ایک ظہور میں نہ آۓ - نہ وہ طاقت جسمانی کہ ایک لاٹھی ہاتھ میں لوں اور اس میں شطرنجی اور ایک ٹین کا لوٹا مع سوت کی رسی کے لٹکا لوں اور پیادہ پا چل دوں -کبھی شیراز جا نکلا - کبھی مصر میں جا ٹھہرا - کبھی نجف جا پہنچا - نہ وہ دستگاہ کہ ایک عالم کا میزبان بن جاؤں - اگر تمام عالم میں نہ ہو سکے نہ سہی ، جس شہر میں رہوں ، اس شہر میں تو بھوکاننگا نظر نہ آۓ - وہ جو کسی کو بھیک مانگتے نہ دیکھ سکے اور خود دربدر بھیک مانگے ، وہ میں ہوں -

(مِرزاغالِؔب)