چارپائی
چارپائی اورمذہب ہم ہندُوستانیوں کا اوڑھنا بِچھونا ہے۔ ہم اِسی پرپیداہوتےہیں اوریہیں سے اِسکول، آفس، جیل خانے، کونسل یا آخِرت کا راستہ لیتے ہیں۔ چارپائی ہماری گُھٹّی میں پڑی ہوئی ہے۔ ہم اِس پردواکھاتےہیں اوردُعا بھی مانگتےہیں۔ ہم کوچارپائی پراُتنا ہی اعِتماد ہے جتنا برطانیہ کوآئی۔سی۔ایس پرتھا۔
چارپائی ہندوستانیوں کی آخری جاے پناہ ہے۔ فتح ہویا شِکست، وہ جائےگا ہمیشہ چارپائی کی طرف ۔ پھر وہ چارپائی پر لیٹ جائےگا، گائےگا یا گالی دےگا۔
چارپائی ریاست کے مُلازم کی طرح ہے ۔ یہ ہر کام کےلیے نامَوزوں ہوتا ہے ۔ اِ س لیے ہر کام پر لگا دیا جاتا ہے۔ ایک ریاست میں کوئی صاحِب ولایت پاس ہوکرآئے۔ ریاست میں کوئی اسامی نہ تھی جو اُن کو دی جا سکتی ۔ آدمی سوجھ بوجھ کے تھے ۔ راجہ صاحِب کے کانوں تک یہ بات پہنچا دی کہ کوئی جگہ نہ ملی تووہ لاٹ صاحب سے طے کر آئے ہیں ، راجہ صاحب ہی کی جگہ پر اِکتِفا کریں گے ۔ ریاست میں ہل چل مچ گئی۔ اِتفاق سے ریاست کے سول سرجن رُخصت پر گئے ہوئے تھے ۔ یہ اُن کی جگہ پر لگا دِیئے گئے ۔ کچھ دنون بعد سول سرجن صاحب واپس آئے توانجینیئر صاحب پرفالِج گرا ۔اُن کی جگہ اِن کو دے دی گئی ۔ آخری بار یہ خبر سُنی گئی کہ وہ ریاست کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہو گئے تھے ۔
یہی حالت چارپائی کی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اُن ملازم صاحب سے کہیں زیادہ مفید ہوتی ہے !فرض کیجیے آپ بیمار ہیں۔ سفرِ آ خِرت کا سامان مُیسّر ہو یا نہ ہو،اگر چارپائی آپ کے پاس ہے تو دنیا میں آپ کو کسی اور چیز کی حاجت نہیں۔ دوا کی پُڑیا تکیے کے نیچے ،شیشی سرہانے رکھی ہوئی، بڑی بیوی طبیب، چھوٹی بیوی خدمت گُذار، چارپائی سے ملا ہوا بول وبراز کا برتن ، چارپائی کے نیچے میلے کپڑے، بچّوں کے کِھلَونے ، جھاڑو،کاغذ کے ٹکڑے، گھر یا محلّے کے دو ایک بچّے جن میں ایک آدھ زُکام میں مُبتلا ! اچھے ہوگئے تو بیوی نے چارپائی کھڑی کر کے غُسل کرا دیا ورنہ آپ کے دُشمن اِسی چارپائی پرقبرِستان لا ئے گئے۔
ہندُوستانی گھرانوں میں چارپائی کو ڈرائنگ روم ،سونے کا کمرہ ،غُسل خانہ، قلعہ، خیمہ ،دواخانہ ،صندوق، کتاب گھر سب کی حَیثیت حاصِل رہتی ہے۔ کوئی مہمان آیا، چارپائی نکالی گئی۔ اِس پر ایک نئی دری بِچھا دی گئی اور مہمان صاحب مع شیروانی، ٹوپی، بیگ بغچی کے بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر کے لیے یہ معلوم کرنا مُشکل ہوگیا کہ مہمان بے وقوف ہےیا میزبان بدنصیب ! چارپائی ہی پر اُن کا مُہنہ ہاتھ دُھلوایا اورکھانا کِھلایا جائے گا اور اِسی چارپائی پر سو رہیں گے ۔
فِراق اوروِصال،بیماری و تندرسُتی سب سے چارپائی ہی پر نِپٹتے ہیں۔ بچّے بوَڑھے اور بیمار اِس کوبہ طَورپاخانہ، غُسل خانہ کام میں لاتے ہیں ۔ فرش پر گھسیٹیے تو معلوم ہو کوئی ملٹری ٹینک مُہِم پر جا رہا ہے ۔ کھٹملوںسے نجات پانے پانے کے لیے جوترکیبیں کی جاتی ہیں اور جس جس آسن میں چارپائی نظر آتی ہے ،اُن پر غور کر لیجیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ہندُوستانی بیوی کا تخیّلُ ہندُوستانیوں نے چارپائی ہی سے لیا ہے!
حُکومت بھی چارپائی ہی پر سے ہوتی ہے۔ خاندان کے کرتا دھرتا چارپائی ہی پر براجمان ہوتے ہیں۔ وہیں سے ہر طرح کے احکام جاری ہوتے رہتے ہیں اور ہر گُناہ گار کو سزا بھی وہیں سے دی جاتی ہے ۔اِس میں ہاتھ پاؤں ، زبان، ڈنڈا، جوتا سبھی اِستعمال ہوتے ہیں جنھیں اکثر پھینک کر مارتے ہیں۔
چارپائی ہی کھانے کا کمرہ بھی ہوتی ہے- باورچی خانے سے کھانا چلا اور اُس کے ساتھ پا نسا ت چھوٹے بڑے بچّے، اُتنی ہی مُرغیاں، دو ایک کُتّے، بِلّی اور بےشُمار مکّھیاں آ پہنّچیں۔ سب اپنے قرینے سے بیٹھ گیًیں ۔ ایک بچّہ زیادہ کھانے مارکھاتا ہے ، دوسرا بدتمیزی سے کھا نے پر، تیسرا کم کھانے پراور باقی اِس پر کہ اُن کو مکّھیاں کھائے جاتی ہیں۔ دوسری طرف بیوی مکّھی اُڑاتی جاتی ہے اور شَوہر کی بدزبانی سنتی اور بدتمیزی سہتی جاتی ہے-
کوئی چیز کہیں گُم ہو، ہندُوستانی اُس کی تلاش چارپائی سے شروع کرتا ہے- اِس میں ہاتھی سوئی، بیوی، بچّے، موزے، مُرغی، چور سب شامل ہیں- رات میں کھٹکا ہوا، اُس نے چارپائی کے نیچے دیکھا- خطرہ بڑھا تو چارپائی کے نیچے پناہ لی-
چارپائی ہندُوستان کی آب وہوا ، تمدُّن ومُعاشرت کا سب سے بھرپور نمونہ ہے- ہندُوستان اور ہندُوستانیوں کے مانند ڈھیلی ڈھالی اوربےسروسامان ، لیکن ہندُوستانیوں کی طرح غالِب اور حُکمراں کے لِیے ہر قسم کا سامانِ راحت فراہم کرنے کے لیے تیّار۔ صوفے اور ڈرائنگ روم کے اسیر اُس راحت کا کیا اندازہ لگا سکتے ہیں جو چارپائی پر مُیسّرآتی ہے! - شاعِروں نے انسان کی خُوشی اور خُوشحالی کے لیے کچھ باتیں مُنتخب کرلی ہیں ، مثلاَ سچےّ دوست شرافت ،فراغت اور گوشئہ چمن، ہندُوستان جیسے غریب مُلک کے لیے یہ فہرست اِس سے مُختصر ہونی چاہیے۔ میرے نزدیک تو صرف ایک چارپائی اِن تمام لوازم کو پورا کر سکتی ہے۔
(رشیداحمدصِدّیقی)