ایک روز اس گنبد کے نیچے روشن دان سے ایک اچنبھے کا پھول نظر پڑا کہ دیکھتے دیکھتے بڑا ہوتا جاتا تھا- میں نے چاہا کہ ہاتھ سے پکڑ لوں- جوں میں ہاتھ لمبا کرتا تھا وہ اونچا ہوتا جاتا تھا- میں حیران ہوکر اسے تک رہا تھا- ایک آواز قہقہے کی میرے کان میں آئی، میں نے اس کے دیکھنے کوگردن اٹھائی- دیکھا تو ایک چاند کا سا مکھڑا نکل رہا ہے- اس کے دیکھتے ہی میرے عقل و ہوش بجا نہ رہے، پھر خود کو سنبھال کر دیکھا تو ایک تخت پری زادوں کے کندھے پر کھڑا ہے اور ایک پری جواہر کا تاج پہنے، ہاتھ میں یاقوت کا پیالہ لئے بیٹھی ہے- وہ تخت بلندی سے آہستہ آہستہ نیچے اتر کر اس برج میں آیا- تب پری نے مجھے بلایا اور اپنے نزدیک بٹھایا- باتیں کرنے لگی - ایک جام شراب کا پلایا اور کہا : " آدمی بے وفا ہوتا ہے، لیکن ہمارا دل تجھے چاہتا ہے -" ایک دم میں ایسی ایسی پیار کی باتیں کیں کہ زندگی کا مزا پایا اور یہ سمجھا، "آج تو دنیا میں آیا ہے" -
اس مزے میں ہم دونوں بیٹھے تھے کہ چار پریوں نے آسمان سے اتر کر اس کے کان میں کچھ کہا - سنتے ہی اس کا چہرہ بدل گیا اور مجھ سے بولی : " اے پیارے ! دل تو یہ چاہتا تھا کہ کوئی دم تیرے ساتھ بیٹھ کر دل بہلا ؤں اور اسی طرح ہمیشہ آؤں یا تجھے اپنے ساتھ لے جاؤں، پر یہ آسمان دونوں کو ایک جگہ آرام سے رہنے نہیں دیتا -" یہ سن کر میرے حواس جاتے رہے - میں نے کہا : " اب پھر کب ملاقات ہوگی - اگر جلد آؤگی ، تو مجھے جیتا پاؤ گی ، نہیں تو پچھتاؤ گی - یا اپنا ٹھکانا اور نام و نشان بتاؤ کہ میں ہی تمھارے پاس پہنچوں -" یہ سن کر بولی : دور پار ! اگر زندگی ہے تو پھر ملاقات ہو گی - میں جنوں کے بادشاہ کی بیٹی ہوں اور کوہ قاف میں رہتی ہوں -" یہ کہہ کر تخت اٹھایا ، وہ جس طرح اترا تھا ، اسی طرح بلند ہونے لگا -
اس کے بعد عجب طرح کی اداسی دل پر چھا گئی ، عقل و ہوش رخصت ہوے - دنیا آنکھوں میں اندھیر ہو گئی -
اس خرابی سے دائی اور استاد خبردار ہوۓ - ڈرتے ڈرتے بادشاہ کے پاس گئے اور عرض کی کہ بادشاہ زادے کا یہ حال ہے - میری بے قراری دیکھ کر بادشاہ کی حالت بھی خراب ہو گئی - بے اختیار گلے سے لگایا اور علاج کا حکم کیا - مگر کسی کی تدبیر کام نہ آئی - دن بدن دیوانگی کا زور ہوا اور میرا بدن کم زور ہو چلا - اس حالت میں تین سال گزرے - چوتھے برس ایک سوداگر سیر و سفر کرتا ہوا آیا اور دربار میں ملازمت حاصل کی -
بادشاہ نے اس سے پوچھا : " تم نے بہت ملک دیکھے - کہیں کوئی حکیم کامل بھی نظر پڑا یا کسی سے اس کا ذکر سنا -"
اس نے عرض کیا : " حضور ! غلام نے بہت سیرکی - لیکن ہندستان میں دریا کے بیچ ایک پہاڑی ہے ، وہاں ایک جوگی رہتا ہے - اس کی دوا پیتے ہی اثر ہوتا ہے اور مرض بالکل جاتا رہتا ہے - اگر حکم ہو تو شہزادے کو اس کے پاس لے جائیں اور اس کو دکھا ئیں -"
بادشاہ کو اس کی صلاح پسند آئی اور خوش ہو کر فرمایا : "بہت بہتر - شاید اس کا ہاتھ رس آئے اور میرے بیٹے کا مرض جائے -" اس سوداگر کو میرے ساتھ بھیجا -
منزل منزل چلتے چلتے اس ٹھکانے پر جا پہنچے مگر اس پری کی یاد دل سے نہ بھولتی تھی - جب دو تین مہینے گزرے ، اس پہاڑی پر تقریبا چار ہزار مریض جمع ہوۓ - آخر وہ دن آیا - صبح کو جوگی آفتاب کی طرح نکلا اور دریا میں نہایا - اس کے چہرے سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ساری دنیا اس کے نزدیک کچھ قدر نہیں رکھتی - ایک ایک کی طرف دیکھتا اور نسخہ دیتا ہوا میرے نزدیک آ پہنچا - جب میری اور اس کی نظریں چار ہوئیں ، کھڑا رہ گیا ، غور کرنے لگا اور مجھ سے کہنے لگا : " ہمارے ساتھ آؤ -" میں ہمراہ ہو لیا - مجھے باغ کے اندر لے گیا - فرمایا کہ تم یہاں رہا کرو - جب ایک مہینہ گزرا تو میرے پاس آیا ، مجھے کش خوش پایا تب مسکرا کر فرمایا کہ اس باغ کی سیر کیا کرو - یہ کہہ کر وہ چلا گیا - میں نے اس کے کہنے پر عمل کیا - ہر روز بدن میں قُوَت اور دل کو خوشی معلوم ہونے لگی ، لیکن اس پری کی صورت نظروں کے آگے پھرتی تھی -
ایک طاق میں ایک کتاب نظر آئی ، اتار کر دیکھا تو سارے علم اس میں جمع تھے - ہر وقت اس کو پڑھنے لگا -علم تسخیر میں کمال حاصل کیا - اس میں برس گزر گیا - پھر وہی خوشی کا دن آیا ٠ جوگی باہر نکلا - میں نے سلام کیا - اس نے کہا - " ساتھ چلو -" میں بھی ساتھ ہو لیا - وہ اپنی عادت کے مطابق دریا دریا تک گیا اور اسنان پوجا کی -
پھر چپکا اٹھ باغ کے کونے میں آیا - ایک درخت سے گردن میں پھانسی لگا کر رہ گیا - میں نے پاس جا کر دیکھا تو مر گیا تھا - یہ اچنبھا دیکھ کر نہایت افسوس ہوا - سوچا ، اسے گاڑ دوں ، جوں درخت سے جدا کرنے لگا، دو کنجیاں اس کی لٹوں میں سے گر پڑیں - میں نے ان کو اٹھا لیا - دو کمروں کے تالےان کنجیوں سے کھلے - دیکھا تو زمین سے چھت تک جواہر بھرا ہے اور ایک سونے کی پیٹی ایک طرف رکھی ہے - اس کو جو کھولا تو ایک کتاب دیکھی کہ اس میں اسم اعظم اور جن و پری کے جادو لکھے ہوئے تھے -
ایسی دولت کے ہاتھ لگنے سے نہایت خوشی حاصل ہوئی اور ان پر عمل کرنا شروع کیا -
میں نے باغ کو پھر سے بنوایا اور جنوں کی تسخیر کے لیے چلّے بیٹھا - جب چالیس روز پورے ہوۓ ، تب آدھی رات کو ایسی آندھی آئی کہ بڑی بڑی عمارتیں گر پڑیں اور درخت اکھڑ کر کہیں جا پڑے اور پری زادوں کا لشکر نمودار ہوا - ایک تخت ہوا سے اترا - اس پر ایک شخص جواہر کا تاج پہنے ہوئے بیٹھا تھا - میں نے دیکھتے ہی سلام کیا - کہا : " اے عزیز ! یہ تو نے ناحق کیا دھوم مچائی ہے ؟" میں نے عرض کیا : " یہ عاجز بہت مدّت سے تمھاری بیٹی کے دیکھنے کا مشتاق ہے اور اسی لیے کیا کیا دکھ اٹھائے ہیں - اب زندگی سے تنگ آیا ہوں - اس لیے یہ کام کیا ہے -امیدوار ہوں کہ مجھ پر مہربانی کرو اور اس کے دیدار سے زندگی اور آرام بخشو -"
میری بات سن کر بولا کہ آدمی خاکی اور ہم آتشی ، ان دونوں میں موافقت مشکل ہے - میں نے قسم کھائی کہ میں اس کے دیکھنے کا مشتاق ہوں اور کچھ مطلب نہیں - پھر اس نے کہا : " اگر تو نے بے ادبی کی تو خوف جان کا ہے -" میں نے پھر قسم کھائی کہ جس میں برائی ہو ، ویسا کام ہرگز نہ کروں گا - یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ پری سنگھار کئے آ پہنچی اور بادشاہ کا تخت وہاں سے چلا گیا -
خوشی کے عالم میں ہم اس باغ میں رہنے لگے - مارے خوف کے بے ادبی نہ کرتا - صرف دیکھا کرتا - وہ پری میرے قول کے نباہنے پر حیران رہتی اور کہتی : " تم بھی اپنی بات کے بڑے سچّے ہو - لیکن ایک نصیحت میں بھی دوستی کی راہ سے کرتی ہوں - اپنی کتاب سے خبرداررہو کہ جن کسی نہ کسی دن تمھیں غافل پا کر چرالے جائیں گے -" میں نے کہا : " اسے میں اپنی جان کے برابر رکھتا ہوں -"
اتّفاق سے ایک روز رات کو شیطان نے ورغلایا - اسے چھاتی سے لگایا - اتنے میں یہ آواز آئی : " یہ کتاب مجھ کو دے کہ اس میں اسم اعظم ہے - بے ادبی نہ کر -" کچھ ہوش نہ رہا - کتاب بغل سے نکال کر بغیر جانے پہنچانے دے دی - یہ دیکھ کر وہ پری بولی : " ہے ظالم ! آخر چوکا ! اور نصیحت بھولا -" یہ کہہ کر بے ہوش ہو گئی اور میں نے اس کے سرہانے ایک دیو دیکھا کہ کتاب لئے کھڑا ہے - چاہا کہ پکڑ کر خوب ماروں اور کتاب چھین لوں - اتنے میں اس کے ہاتھ سے کتاب دوسرا لے بھاگا - میں نے جو جادو یاد کئے تھے ، پڑھنے شروع کیے - وہ جن جو کھڑا تھا ، بیل بن گیا ، لیکن افسوس پری ذرا بھی ہوش میں نہ آئی اور وہی حالت بے ہوشی کی رہی - تب میرا دل گھبرایا - سارا عیش تلخ ہو گیا - اس روز سے آدمیوں سے نفرت ہوئی اور اس باغ کے گوشے میں پڑا رہتا ہوں -
(میرامن دہلوی)