الف لیلیٰ
ایک شمع پانچ پروانے

     کسی عورت کی شادی ایک سوداگر کے بیٹے سے ہوئی تھی. اکثر وہ سفر پر جایا کرتا تھا. ایک بار کسی دور ملک کو گیا. کئی سال گزر گئے، واپس نہیں آیا. عورت تنہائی سے تنگ آ کر ایک نوجوان سے محبّت کرنے لگی. ایک دن اس نوجوان کا کسی سے جھگڑا ہو گیا اورکوتوال نے اسےقید خانے میں بند کر دیا. عورت کوبہت دکھہ ہوا. وہ بناؤ سنگھار کر کے کوتوال کے پاس پہنچی. جھک کر سلام کیا اور اس مطلب کی عرضی پیش کی :فلاں آدمی میرا بھائی ہے. اس نے کسی کے ساتھہ جھگڑا نہیں کیا. لوگوں نے جھوٹی گواہی دی ہے. براہ کرم اس کو رہا کر دیا جائے ،کیوں کے اس کے سوا میرا کوئی سہارا نہیں ہے.
     کوتوال نے عرضی پڑھ کر عورت پر نظر ڈالی اور دل و جان سے اس پر عاشق ہو گیا. بولا " تم میرے گھر چلو. میں تھوڑی دیر میں تمھارے بھائی کو بلواتا ہوں.
     " عورت نے کہا "جناب! اللہ کے سوا میری حفاظت کرنے والا کوئی نہیں. میں اجنبی ہوں پرائے گھر کیسے جا سکتی ہوں؟"
     "مگر جب تک تم میری بات نہیں مانو گی ، میں تمھارے بھائی کو نہیں چھوڑوں گا."
     عورت نے جواب دیا :"اگر یہی بات ہے تو آپ میرے گھر تشریف لائیں اورکچھ وقت میرے ساتھ گزاریں."
     "تمہارا گھر کہاں ہے؟" کوتوال نے پوچھا.
     عورت نے اپنے مکان کا پتا بتایا. وقت طے کیا اور واپس آ گئی.
     اس کے بعد وہ اپنی فریاد لے کر قاضی- کے پاس پہنچی اور بولی :"جناب عالی! میرا صرف ایک بھائی ہے. اسے کوتوال نے قید کر دیا ہے. لوگوں نے اس کے خلاف جھوٹی گواہی دی ہے. آپ معاملے کو اپنےہاتھ میں لیں اور اس کی رہائی کا حکم دیں ، مہربانی ہو گی."
     قاضی بھی عورت کودیکھ کر اس پر عاشق ہو گیا تھا. بولا :"میرے گھر چلو. میں کوتوال کو بلوا کر تمھارے بھائی کو رہا کرائے دیتا ہوں. اگر اس پر کوئی جرمانہ ہے تو وہ بھی اپنی جیب سے ادا کر دوں گا. مجھے تمہاری باتیں بہت ہی پیاری لگتی ہیں."
     عورت نے جواب دیا :عالی جناب ! آپ بھی ایسا کہتے ہیں تو دوسروں کا کیا قصور؟"

     قاضی نے کہا :"مجھ سے کام لینا ہے تو میری بات بھی ماننی پڑے گی."

     عورت بولی :"اچھا اگر ایسا ہے تو پھر میرا گھر ہی بہتر رہے گا. میں اس قسم کی عورت تو نہیں ہوں ، مگر اس وقت مجبور ہوں ، کیا کروں؟"

     تمہارا گھر کہاں ہے؟" قاضی نے پوچھا.

     عورت نے اپنے گھر کا پتا بتایا اور وہی دن مقرر کیا جو وہ کوتوال سے طے کر چکی تھی.
     اس کے بعد وہ اپنی فریاد لے کر وزیر کے پاس پہنچی اور اپنے بھائی کا معاملہ اس کے سامنے پیش کیا مگر وزیر نے بھی یہی کہا :"اگر تم میری خواہش پوری کر دو تو میں یقیناً تمہاری مدد کروں گا."

     عورت نے جواب دیا :"لیکن آپ کو میرے گھر پر آنا ہو گا. میرے گھر میں دوسرا کوئی نہیں ہے. آپ کے گھر میں بہت سے آنے جانے والے ہیں. آپ جانتے ہیں کے میں شریف- عورت ہوں."
     تمہارا گھر کہاں ہے؟" وزیر نے پوچھا.
     عورت نے اپنے گھر کا پتا بتایا اور وہی دن مقرّر کیا جو اس نے کوتوال اور قاضی سے طے کیا تھا اور واپس چلی آئی.
اس کے بعد وہ اپنی فریاد لے کر بادشاہ کے پاس پہنچی. بادشاہ نے جب عورت کی باتیں سنیں تو اس کا دل بھی محبّت کےتیر سے زخمی ہو گیا . بولا :"تم محل کے اندر چلو . ہم تمھارے بھائی کو رہا کروا دیں گے."
عورت نے جواب دیا :" بادشاہ سلامت ! آپ کے لئے یہ آسان ہے, میرے لئے بہت مشکل. پھر بھی میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتی ہوں. میری گزارش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور میری عزت بڑھائیں."
"ہمیں تمہاری خوشی کا خیال- ہے." بادشاہ نے فرمایا .
اس عورت نے بادشاہ سے بھی وہی وقت مقرّر کیا ، جو باقی تینوں سے طے کیا تھا اور واپس چلی آئی.
اس کے بعد وہ ایک بڑھئی کے پاس پہنچی. اس سے کہا :" مجھے چار بڑے بڑے خانوں والی الماری چاہئے. جس کے ہر خانے میں تالا لگ سکے. اس کا تم کیا لو گے؟"
"چاردینار ; بڑھئی بولا :"لیکن اے شریف عورت !اگر تو ،مجھ پر مہربانی کرے تو میں الماری مفت ہی بنا دوں گا."
" اچھا ، ایسا ہے تو پھر پانچ خانوں کی الماری تیار کرنا ."عورت نے کہا.
اب وہ عورت چار چغے لے کر ایک رنگریز کی دکان پر گئی اور اس سے کہا :"ان سب کو الگ الگ رنگوں میں رنگ دو."
جب مقرّرہ دن آیا، اس عورت نے اپنے گھر میں غالیچے بچھائے. اچھی طرح بناؤ سنگار کیا. نہایت عمدہ کپڑے پہنے. عطرلگایا. اچھے کھانے پکائے. اور شراب اور پھولوں کا انتظام کیا. آنے والوں میں سب سے پہلے قاضی پہنچا. عورت نے جھک کر اسے سلام کیا. قاضی کے قدموں کی زمین چومی. اس کا ہاتھ پکڑ کرلائی اور دیوان پر بٹھایاہنسی پیار. -کی باتیں شروع ہوئیں. جب قاضی نے چاہا کہ اپنی خواہش پوری کرے، عورت بولی :"جناب عالی! پہلے آپ لباس اور دستار اتارئے، یہ چغہ پہنیے، میں کھانا اور شراب حاضر کرتی ہوں ."
     قاضی نے لباس تبدیل ہی کیا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی. قاضی نے گھبرا کر پوچھا : "کون ہے ؟"
عورت نے جواب دیا : "کوئی نہیں، میرا خاوند ہو گا ."
قاضی نے کہا :" تو میں کہاں جاؤں؟"
     عورت بولی :"گھبرائیے نہیں ،میں آپ کو اس الماری میں چھپائے دیتی ہوں." چنانچہ اس عورت نے قاضی کو الماری کے پہلے خانے میں بند کر کے تالا لگا دیا.
     عورت نے باہر جا کر دروازہ کھولا. کوتوال کا استقبال کیا اور اسے اندر لے آئی." جناب اسے اپنا ہی گھر سمجھیے. میں آپ کی خادمہ ہوں. لباس تبدیل کیجیے اور آرام فرمائیے ."
تھوڑی دیر ہنسی پیار کی باتیں ہوتی رہیں. پھر عورت نے کہا : "براہ کرم پہلے میرے بھائی کے لئے حکم لکھ دیجیے تاکہ میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو."
     "ہاں ہاں سر آنکھوں پر ." کوتوال بولا. اس نے فوراً حکم نامہ لکھ دیا. اب پھر دروازے پر دستک ہوئی. کوتوال نے پوچھا "کون ہے؟" عورت نے جواب دیا : "کوئی نہیں ، میرا خاوند ہو گا." کوتوال نے کہا : "تو میں کہاں جاؤں؟" عورت بولی "گھبرائیے نہیں میں آپ کو اس الماری میں چھپائے دیتی ہوں. یہ ابھی چلا جائے گا تو میں آپ کے پاس آجاؤں گی."
     چنانچہ اس عورت نے کوتوال کو الماری کے دوسرے خانے میں بند کر کے تالا لگا دیا.
     اب وزیر صاحب تشریف لائے. عورت نے ان کا بھی استقبال کیا. زمین چومی ، اور انھیں ادب سے بٹھایا. "حضور ! یہ آرام کا وقت ہے. اپنا بھاری لباس اتار دیجیے اور رات بھر مزے سے یہاں رہئیے." تھوڑی ہی دیر ہنسی پیار کی باتیں ہوئیں تھیں کہ اتنے میں پھر دستک ہوئی. وزیر نے گھبرا کر پوچھا "کون ہے؟" عورت نے وہی جواب دیا "کوئی نہیں ، میرا خاوند ہو گا." وزیر نے کہا : "تو میں کہاں جاؤں؟" عورت بولی "گھبرا ئیے نہیں. میں آپ کو اس الماری میں چھپائے دیتی ہوں". غرض اس عورت نے وزیر کو الماری کے تیسرے خانے میں بند کر کے تالا لگا دیا.
     اب باہر آ کر عورت نے بادشاہ سلامت کا استقبال کیا. زمین چومی. نہایت عزت کے ساتھ انھیں اندر لے آئی اور دیوان پر بٹھا کر بولی : "عالی جاہ ! میں شکر گزار ہوں کہ آپ نے میرے گھر کی رونق بڑھائی. ایک بات عرض کرنے کی اجازت چاہتی ہوں. اپنا قیمتی لباس تبدیل کر لیجیے اور آرام فرمایئے." بادشاہ نے اپنا لباس اتارا اور عورت نے اس کے قیمتی کپڑے سنبھال کر الگ رکھ دئیے. تھوڑی دیر ہنسی پیار کی باتیں ہوتی رہیں. اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی.
بادشاہ نے گھبرا کر پوچھا "کون ہے؟" عورت نے وہی جواب دیا "کوئی نہیں ، میرا خاوند ہو گا." بادشاہ نے کہا : "تو میں کہاں جاؤں؟" عورت بولی "گھبرائیے نہیں. میں آپ کو اس الماری میں چھپائے دیتی ہوں". غرض اس عورت نے بادشاہ کو الماری کے چوتھے خانے میں بند کر کے تالا لگا دیا.
     عورت نے باہر آ کر دروازہ کھولا تو بڑھئی نے جھک کر سلام کیا. اور اسے بھی اندر لے آئی اور بولی : "تم نے یہ کیسی الماری بنائی ہے، اس کا پانچواں کھانا تو بہت ہی چھوٹا ہے."
     بڑھئی نے کہا :" یہ نہیں ہو سکتا."
     "ذرا تم اندر جا کر تو دیکھو." عورت نے کہا.
     جوں ہی بڑھی الماری کے اندر گیا ، عورت نے باہر سے تالا لگا دیا. اس کے بعد وہ کوتوال کا حکم نامہ لے کر قید خانے پہنچی اور اپنے عاشق کو رہا کرایا. پھر اسے ساری کہانی سنائی. اس نے حیران ہو کر پوچھا :"اب ہم کیا کریں؟"
     عورت بولی:"آؤ کسی دوسرے شہر بھاگ چلیں.
یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے." دونوں نے اونٹوں پر اپنا سامان لادا اور وہاں سے چل پڑے.
     وہ پانچوں بھوکے پیاسے تین دن تک الماری میں بند پڑے رہے. آخر بڑھئی نے زبان کھولی . اس کے بعد سبھوں نے چلانا شروع کیا. ان سب کا شور سن کر لوگ اندر آئے اور سمجھے کہ الماری میں جن ہے. فیصلہ کیا گیا کہ اسے آگ لگا دینی چاہیے. قاضی یہ سن کر چیخ اٹھا اورلوگوں کو سارا قصّہ شروع سے آخر تک سنایا. چنانچہ کوتوال، قاضی، وزیر، بادشاہ اور بڑھئی کو باہر نکالا گیا. رنگ برنگ کے چغے پہنے ہوئے وہ عجیب نظر آتے تھے. جس نے بھی انھیں دیکھا اور ان کا حال سنا، وہ ہنستے ہنستے لوٹ گیا.

     کوتوال نے عرضی پڑھ کر عورت پر نظر ڈالی اور دل و جان سے اس پر عاشق ہو گیا. بولا " تم میرے گھر چلو. میں تھوڑی دیر میں تمھارے بھائی کو بلواتا ہوں.
     " عورت نے کہا "جناب! عالی میرا اس کے سوا میری حفاظت کرنے والا کوئی نہیں. میں اجنبی ہوں پرائے گھر کیسے جا سکتی ہوں؟"
     "مگر جب تک تم میری بات نہیں مانو گی ، میں تمھارے بھائی کو نہیں چھوڑوں گا."
     عورت نے جواب دیا :"اگر یہی بات ہے تو آپ میرے گھر تشریف لائیں اورکچھ وقت میرے ساتھ گزاریں."
     "تمہارا گھر کہاں ہے؟" کوتوال نے پوچھا.
     عورت نے اپنے مکان کا پتا بتایا. وقت طے کیا اور واپس آ گئی.

     اس کے بعد وہ اپنی فریاد لے کر قاضی- کے پاس پہنچی اور بولی :"جناب عالی! میرا صرف ایک بھائی ہے. اسے کوتوال نے قید کر دیا ہے. لوگوں نے اس کے خلاف جھوٹی گواہی دی ہے. آپ معاملے کو اپنےہاتھ میں لیں اور اس کی رہائی کا حکم دیں ، مہربانی ہو گی."
     قاضی بھی عورت کودیکھ کر اس پر عاشق ہو گیا تھا. بولا :"میرے گھر چلو. میں کوتوال کو بلوا کر تمھارے بھائی کو رہا کرائے دیتا ہوں. اگر اس پر کوئی جرمانہ ہے تو وہ بھی اپنی جیب سے ادا کر دوں گا. مجھے تمہاری باتیں بہت ہی پیاری لگتی ہیں."
     عورت نے جواب دیا :عالی جناب ! آپ بھی ایسا کہتے ہیں تو دوسروں کا کیا قصور؟"

     قاضی نے کہا :"مجھ سے کام لینا ہے تو میری بات بھی ماننی پڑے گی."

     عورت بولی :"اچھا اگر ایسا ہے تو پھر میرا گھر ہی بہتر رہے گا. میں اس قسم کی عورت تو نہیں ہوں ، مگر اس وقت مجبور ہوں ، کیا کروں؟"

     تمہارا گھر کہاں ہے؟" قاضی نے پوچھا.

     عورت نے اپنے گھر کا پتا بتایا اور وہی دن مقرر کیا جو وہ کوتوال سے طے کر چکی تھی.
     اس کے بعد وہ اپنی فریاد لے کر وزیر کے پاس پہنچی اور اپنے بھائی کا معاملہ اس کے سامنے پیش کیا مگر وزیر نے بھی یہی کہا :"اگر تم میری خواہش پوری کر دو تو میں یقیناً تمہاری مدد کروں گا."

     عورت نے جواب دیا :"لیکن آپ کو میرے گھر پر آنا ہو گا. میرے گھر میں دوسرا کوئی نہیں ہے. آپ کے گھر میں بہت سے آنے جانے والے ہیں. آپ جانتے ہیں کے میں شریف- عورت ہوں."
     تمہارا گھر کہاں ہے؟" وزیر نے پوچھا.
     عورت نے اپنے گھر کا پتا بتایا اور وہی دن مقرّر کیا جو اس نے کوتوال اور قاضی سے طے کیا تھا اور واپس چلی آئی.

اس کے بعد وو اپنی فریاد لے کر بادشاہ کے پاس پہنچی. بادشاہ نے جب عورت کی باتیں سنیں تو اس کا دل بھی محبّت کےتیر سے زخمی ہو گیا . بولا :"تم محل کے اندر چلو . ہم تمھارے بھائی کو رہا کروا دیں گے."
عورت نے جواب دیا :" بادشاہ سلامت ! آپ کے لئے یہ آسان ہے, میرے لئے بہت مشکل. پھر بھی میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتی ہوں. میری گزارش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور میری عزت بڑھائیں."
"ہمیں تمہاری خوشی کا خیال- ہے." بادشاہ نے فرمایا .
اس عورت نے بادشاہ سے بھی وہی وقت مقرّر کیا ، جو باقی تینوں سے طے کیا تھا اور واپس چلی آئی.
اس کے بعد وہ ایک بڑھئی کے پاس پہنچی. اس سے کہا :" مجھے چار بڑے بڑے خانوں والی الماری چاہئے. جس کے ہر خانے میں تالا لگ سکے. اس کا تم کیا لو گے؟"

"چاردینار ; بڑھئی بولا :"لیکن اے شریف عورت !اگر تو ،مجھ پر مہربانی کرے تو میں الماری مفت ہی بنا دوں گا."
" اچھا ، ایسا ہے تو پھر پانچ خانوں کی الماری تیار کرنا ."عورت نے کہا.
اب وہ عورت چار چغے لے کر ایک رنگریز کی دکان پر گئی اور اس سے کہا :"ان سب کو الگ الگ رنگوں میں رنگ دو."
جب مقرّرہ دن آیا، اس عورت نے اپنے گھر میں غالیچے بچھائے. اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا. نہایت عمدہ کپڑے پہنے. عطرلگایا. اچھے کھانے پکائے. اور شراب اور پھولوں کا انتظام کیا. آنے والوں میں سب سے پہلے قاضی پہنچا. عورت نے جھک کر اسے سلام کیا. قاضی کے قدموں کی زمین چومی. اس کا ہاتھ پکڑ کرلائی اور دیوان پر بٹھایاہنسی پیار. -کی باتیں شروع ہوئیں. جب قاضی نے چاہا کہ اپنی خواہش پوری کرے، عورت بولی :"جناب عالی! پہلے آپ لباس اور دستار اتارئے، یہ چغہ پہنیے، میں کھانا اور شراب حاضر کرتی ہوں ."

     قاضی نے لباس تبدیل ہی کیا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی. قاضی نے گھبرا کر پوچھا : "کون ہے ؟"
عورت نے جواب دیا : "کوئی نہیں، میرا خاوند ہو گا ."
قاضی نے کہا :" تو میں کہاں جاؤں؟"
     عورت بولی :"گھبرائے نہیں ،میں آپ کو اس الماری میں چھپائے دیتی ہوں." چنانچہ اس عورت نے قاضی کو الماری کے پہلے خانے میں بند کر کے تالا لگا دیا.
     عورت نے باہر جا کر دروازہ کھولا. کوتوال کا استقبال کیا اور اسے اندر لے آئی." جناب اسے اپنا ہی گھر سمجھیے. میں آپ کی خادمہ ہوں. لباس تبدیل کیجیے اور آرام فرمائے ."
تھوڑی دیر ہنسی پیار کی باتیں ہوتی رہیں. پھر عورت نے کہا : "براہ کرم پہلے میرے بھائی کے لئے حکم لکھ دیجیے تاکہ میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو."
     "ہاں ہاں سر آنکھوں پر ." کوتوال بولا. اس نے فوراً حکم نامہ لکھ دیا. اب پھر دروازے پر دستک ہوئی. کوتوال نے پوچھا "کون ہے؟" عورت نے جواب دیا : "کوئی نہیں ، میرا خاوند ہو گا." کوتوال نے کہا : "تو میں کہاں جاؤں؟" عورت بولی "گھبرائیے نہیں میں آپ کو اس الماری میں چھپائے دیتی ہوں. یہ ابھی چلا جائے گا تو میں آپ کے پاس آجاؤں گی."
     چنانچہ اس عورت نے کوتوال کو الماری کے دوسرے خانے میں بند کر کے تالا لگا دیا.
     اب وزیر صاحب تشریف لائے. عورت نے ان کا بھی استقبال کیا. زمین چومی ، اور انھیں ادب سے بٹھایا. "حضور ! یہ آرام کا وقت ہے. اپنا بھاری لباس اتار دیجیے اور رات بھر مزے سے یہاں رہئے." تھوڑی ہی دیر ہنسی پیار کی باتیں ہوئیں تھیں کہ اتنے میں پھر دستک ہوئی. وزیر نے گھبرا کر پوچھا "کون ہے؟" عورت نے وہی جواب دیا "کوئی نہیں ، میرا خاوند ہو گا." وزیر نے کہا : "تو میں کہاں جاؤں؟" عورت بولی "گھبرا ئیے نہیں. میں آپ کو اس الماری میں چھپائے دیتی ہوں". غرض اس عورت نے وزیر کو الماری کے تیسرے خانے میں بند کر کے تالا لگا دیا.
     اب باہر آ کر عورت نے بادشاہ سلامت کا استقبال کیا. زمین چومی. نہایت عزت کے ساتھ انھیں اندر لے آئی اور دیوان پر بیٹھا کر بولی : "عالی جاہ ! میں شکر گزار ہوں کہ آپ نے میرے گھر کی رونق بڑھائی. ایک بات عرض کرنے کی اجازت چاہتی ہوں. اپنا قیمتی لباس تبدیل کر لیجیے اور آرام فرمایئے." بادشاہ نے اپنا لباس اتارا اور عورت نے اس کے قیمتی کپڑے سنبھال کر الگ رکھ دئے. تھوڑی دیر ہنسی پیار کی باتیں ہوتی رہیں. اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی.
بادشاہ نے گھبرا کر پوچھا "کون ہے؟" عورت نے وہی جواب دیا "کوئی نہیں ، میرا خاوند ہو گا." بادشاہ نے کہا : "تو میں کہاں جاؤں؟" عورت بولی "گھبرائیے نہیں. میں آپ کو اس الماری میں چھپائے دیتی ہوں". غرض اس عورت نے بادشاہ کو الماری کے چوتھے خانے میں بند کر کے تالا لگا دیا.
     عورت نے باہر آ کر دروازہ کھولا تو بڑھئی نے جھک کر سلام کیا. اور اسے بھی اندر لے آئی اور بولی : "تم نے یہ کیسی الماری بنائی ہے، اس کا پانچواں کھانا تو بہت ہی چھوٹا ہے."
     بڑھئی نے کہا :" یہ نہیں ہو سکتا."
     "ذرا تم اندر جا کر تو دیکھو." عورت نے کہا.
     جوں ہی بڑھی الماری کے اندر گیا ، عورت نے باہر سے تالا لگا دیا. اس کے بعد وہ کوتوال کا حکم نامہ لے کر قید خانے پہنچی اور اپنے عاشق کو رہا کرایا. پھر اسے ساری کہانی سنائی. اس نے حیران ہو کر پوچھا :"اب ہم کیا کریں؟"
     عورت بولی:"آؤ کسی دوسرے شہر بھاگ چلیں.
یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے." دونوں نہیں اونٹوں پر اپنا سامان لادا اور وہاں سے چل پڑے.
     وہ پانچوں بھوکے پیاسے تین دن تک الماری میں بند پڑے رہے. آخر بڑھئی نے زبان کھولی . اس کے بعد سبھوں نے چلانا شروع کیا. ان سب کا شور سن کر لوگ اندر ائے اور سمجھے کہ الماری میں جن ہے. فیصلہ کیا گیا کہ اسے آگ لگا دینی چاہیے. قاضی یہ سن کر چیخ اٹھا اور سارا قصّہ شروع سے آخر تک سنایا. چنانچہ کوتوال، قاضی، وزیر، بادشاہ اور بڑھئی کو باہر نکالا گیا. رنگ برنگ کے چوغے پہنے وہ عجیب نظر آتے تھے. جس نے بھی انھیں دیکھا اور ان کا حال سنا، وہ ہنستے ہنستے لوٹ گیا.
(گوپی چند نارنگ)